کچے کا علاقہ ۔۔۔ امن و امان کی تازہ ترین صورت حال

(ثناءاللہ مزاری, Rajan pur)

جنوبی پنجاب کے ضلع راجن پور کا ’’کچے کا علاقہ‘‘ کچھ عرصہ سے اخبارات کی زینت بنا ہوا ہے۔ یہ تقریبا چالیس کلومیٹر لمبی اور پندرہ کلومیٹر چوڑی پٹی پر مشتمل ہے۔ یہ شروع سے ہی جاگیرداروں، رسہ گیروں اور ڈاکوؤں کی جنت رہی ہے۔ کیوں کہ اس کا گھنا جنگل اور دریائے سندھ کے اندر جزیرہ نما بستیاں اسے ناقابلِ تسخیر بنا دیتی ہیں۔ کچے کے علاقے میں جن سرداروں کا اثر و رسوخ زیادہ ہے۔ ان میں سابق نگران وزیر اعظم سردار میر بلخ شیر خان مزاری، سردار شیر علی خان مزاری، ن لیگ کے سردار عاطف خان مزاری، سردار شمشیر مزاری اور پی ٹی آئی کے سردار میر دوست محمد خان مزاری کا تعلق بھی اسی علاقے سے ہے۔

جمال کچا اور اس سے ملحقہ علاقے میں گزشتہ دنوں ضلع راجن پور پولیس نے کامیاب آپریشن کر کے فتح کے جھنڈے گاڑ دیے۔ یاد رہے کہ کچا جمال میں پولیس نے گزشتہ تین چار سالوں میں غلام رسول عرف چھوٹو گینگ کے خلاف درجنوں آپریشن کیے۔ اپریل 2016 میں جب 8 اضلاع کی پولیس نے مشترکہ آپریشن شروع کیا تو اسی آپریشن میں چھوٹو گینگ کا رائٹ ہینڈ پہلوان سکھانی پولیس مقابلے میں مارا گیا ۔ چھوٹو گینگ نے ایس ایچ او حنیف غوری سمیت 7 پولیس اہلکاروں کو شہید اور 4 سپاہیوں کو شدید زخمی کر دیا نیز 20 اہلکاروں کو یرغمال بھی بنا لیا۔ جب پولیس کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تو مجبوراً پاک فوج اور رینجرز سے مدد لینے کا فیصلہ کیا۔ کچا جمال میں پاک فوج نے چارج سنبھال کر کچھ ہی دنوں میں آپریشن کا آغاز کر دیا۔ پاک فوج کے آپریشن نے چھوٹو گینگ کے ناک میں نتھ ڈال دی۔ چھوٹو گینگ نے بے بس ہو کر پاک فوج کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے۔ غلام رسول عرف چھوٹو نے 20 پولیس اہلکاروں کو بھی رہا کر دیا اور خود 13 ساتھیوں سمیت پاک فوج کے سامنے سرینڈر کردیا۔ جبکہ کچھ ڈکیت پاک فوج کے آپریشن سے پہلے ہی رفو چکر ہو چکے تھے ۔اس آپریشن میں ضلع راجن پور کے تمام نوگو ایریاز کا صفایا کردیا گیا۔ آپریشن کی کامیابی پر اہل علاقہ نے جشن منایا، پاک فوج زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگائے اور مٹھائیاں تقسیم کیں۔

امن لوٹنے سے اس علاقہ زندگی دوبارہ رواں دواں ہو گئی۔ آبادی بڑھنے لگی اور ہزاروں مہاجرین دوبارہ رہائش پذیر ہونے لگے۔ کاروبار زندگی معمول پر آ گئے۔ سویلین حکومت نے ان نو گو ایریاز میں پولیس کی چوکیاں لگا کر حالات کو سنبھالا اور الحمد للہ اہل علاقہ پرسکون ہو گئے۔ لیکن راحت کا یہ دورانیہ بہت مختصر رہا۔ آپریشن کے ایک مہینے بعد مفرور ڈکیت گینگز نے واپسی شروع کر دی اور روز بروز حالات پرانی ڈھب پر آنے لگے۔ امن و امان کی صورت دوبارہ خراب ہونے لگی۔ چھوٹو گینگ ختم ہونے کے بعدسکھانی گینگ، پَٹ گینگ، اندھرڑ گینگ اور لُنڈ گینگ کے نام سے نئی مصیبت سر اٹھانے لگی۔ طوالت کے خوف سے یہاں صرف سکھانی گینگ کی مثال دینا چاہوں گا۔ جس نے چند ایک ماہ سے ضلع راجن پور اور رحیم یار خان کے عوام کا جینا دشوار کر دیا۔ گزشتہ دو ماہ سے اس گینگ نے اپنی بد معاشی کا رعب جماتے ہوئے ڈکیتی کے ساتھ ساتھ قتل و غارت بھی شروع کر دی۔ مجبوراً پولیس کو سکھانی گینگ کے خلاف دوبارہ آپریشن کرنا پڑا۔ رحیم یار خان اور راجن پور پولیس کے ذمہ دار سر جوڑ کر بیٹھ گئے، ان گنت میٹنگز ہوئیں۔
طے یہ ہوا کہ اس دفعہ ضلع رحیم یار خان پولیس سکھانی گینگ کے خلاف آپریشن کرے گی۔ چناں چہ آپریشن کا آغاز چک چراغ شاہ سے کیا گیا۔ چند ایک چوکیاں گاؤں کے اندر بنائی گئیں۔ لیکن اس کا فائدہ گینگ کو پہنچنے لگا کیوں کہ چوکیاں بستی کے اندر ہونے کی وجہ سے ڈکیت گروپ نے پولیس کی نفری پر ہوائی فائرنگ شروع کردی۔ جس کا جواب پولیس سرعام فائرنگ سے نہیں دے سکتی تھی۔ ڈاکو جری ہوتے گئے اور بنگیانی قوم کے غلام شبیر نامی شخص کو راستے میں فائرنگ کرکےشہید کر دیا۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے پولیس کو پسپا ہونا پڑا۔

حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اعلی افسران نے سکھانی گینگ سے مذاکرات کے لیے ایک میٹنگ رکھی جس میں پولیس کے اعلی افسران کے ساتھ ساتھ علاقے کی سیاسی و سماجی شخصیات ، سردار ریاض خان مزاری ، احمد نواز خان کھیڑد احمد علی خان اور وڈیرا عبدالکریم خان مزاری سمیت دیگر لوگ شریک ہوئے۔ لیکن مذاکرات کی یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔ مزاکرات ناکام ہونے کے تقریباً پندرہ دن بعد سکھانی گینگ نے رفیق جھک کو بھتہ نہ دینے کے جرم میں شہید کردیا۔

اگلے روز ایک بار پھر میٹنگ بلائی گئی۔ اس میٹنگ میں پولیس کے اعلی افسران نے فیصلہ کیا اس گینگ کے خلاف ایک بھرپور آپریشن کیا جائے۔ فیصلے کے مطابق اگلے روز ضلع راجن پور پولیس کی بھاری نفری نے کچے کے علاقے میں اپنا پڑاؤ ڈال دیا۔ شدید فائرنگ ہوئی، علاقہ خطرناک گولہ و بارود کے پھٹنے سے لرز اٹھا۔ اس دوران ایک عام دیہاتی نیاز احمد اس کی زد میں آ کر شہید ہوگیا۔ نیاز احمد اپنے بہن بھائیوں اور والدین کا واحد کفیل تھا۔ اس کے باقی بہن بھائی معذور ہیں۔ سماجی شخصیت وڈیرا عبد الکریم خان مزاری نے اپنی قوم کو یقین دہانی کرائی کہ ان شاءاللہ جلد اس علاقے میں امن و امان قائم کر کے دم لیں گے۔

6دسمبر 2017 کو پولیس کی بھاری نفری نے بکتر بند گاڑیوں سے سکھانی گینگ کا گھیراؤ کر لیا اور الحمدللہ ان کے سارے ٹھکانے تباہ کر دیے۔ سبز ہلالی پرچم کے لہراتے ہی فضا پاکستان زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھی۔ پولیس کی کامیابی پر اہل علاقہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اللہ رب العالمین کا لاکھ لاکھ شکر ہے اس نے ملک کے رکھوالوں کو اس غریب علاقے کی جانب توجہ دینے کی توفیق بخشی۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمارے علاقے بلکہ سارے وطن عزیز کا امن و امان اسی طرح قائم رہے آمین۔
***

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: ثناءاللہ مزاری

Read More Articles by ثناءاللہ مزاری: 3 Articles with 2486 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Dec, 2017 Views: 649

Comments

آپ کی رائے
ماشاءاللہ بہت عمدہ تحریر ہے.
حقائق پر مبنی بروقت کچے کے علاقے کی تازہ ترین صورتحال
سے آگاہ کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہیں
By: Ghulam Hussain , Rajan pur on Jan, 07 2018
Reply Reply
0 Like
ماشاء اللہ بہت ہی عمدہ کالم ہے۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔۔۔ اگر اسی طرح لکھتے رہے تو ان شاء اللہ بہت بڑے کالم نگار بن سکتے ہیں۔
By: Abd-us-Saboor Shakir, Toba Tek Singh on Dec, 13 2017
Reply Reply
1 Like