بچہ اور اس کی تربیت

(Kanwal Naveed, Karachi)

اکثر آپ نے ایسے جملے سنے ہوں گئے جس میں ہمیشہ عورت کو ہی بچوں کی تربیت کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے ۔ بے شک اس میں کوئی شک نہیں کہ ماں ہی وہ پہلی درسگاہ ہے ،جس سے بچہ سوچنے سمجھنے کے طور طریقے سکھتا ہے۔ نیپولین کا مشہور زمانہ جملہ بھی آپ نے سنا ہی ہو گا ،تم مجھے پڑھی لکھی مائیں دو میں تمہیں پڑھی لکھی قوم دوں گا۔ اگر یہ بات صرف لکھنے پڑھنے سے متعلق ہے تو میں اسے درست مان سکتی ہوں مگر جہاں تک تربیت کا تعلق ہے تو وہ صرف ایک ماں نہیں کرتی۔ آپ تاریخ کی کوئی بھی ہستی لے کر مطالعہ کیجئے ،آپ کو پتہ چلے گا کہ ماں نے بچہ کی اچھی تربیت اسی صورت ہی کی ہے جب باپ مر گیا ہو یا پھر کہیں دور چلا گیا ہو۔

ممکن ہے کہ آپ میری بات سے اتفاق نہ کریں ۔ لیکن میں یہاں چند مثالوں سے آپ پر واضح کرنا چاہوں گی کہ میں اپنی سوچ میں کس طرح حق بجانب ہوں ۔ ایڈیسن کی مثال لیں ۔ آپ نے وہ واقعہ تو سنا ہی ہو گا کہ ایڈیسن کو ایک خط کے ساتھ سکول سے نکال دیا گیا۔ جس میں لکھا تھا کہ آپ کے بچے کو اس سکول میں پڑھانا ممکن نہیں ۔وہ پڑھنے لکھنے کے کسی مسلہ کا شکا ر ہے۔ لہذا آپ اپنے بچے کو سکول سے ہٹا لیں ۔ ایڈیسن کی ماں نے ایڈیسن کے پوچھنے پر اس سے جھوٹ بولا کہ سکول والوں نے کہا ہے کہ آپ کا بچہ بہت ذیادہ قابل ہے ہمارا سکول اس قابل نہیں کہ اس قدر ذہین بچے کو تعلیم دے سکے ۔ ایڈیسن اپنی ہر کامیابی اپنی ماں سے منسوب کرتے ہوئے اس خط کا ذکر کرتا ہے۔لیکن یہاں سوچنے کا مقام تو ہے اور وہ یہ کہ ایڈیسن کا باپ کہاں تھا ، کیا ہمارے ہاں کی ماوں کی طرح ایڈیسن کی ماں نے وہ خط ابا جی کو نہیں دیکھا یا اور پھر ابا جی نے ایڈیسن کی چھترول کیوں نہیں کی؟

ہمارے ہاں تو ماں ناک کا بال ٹوٹ جائے تو وہ بھی ابا جی کو بتاتی ہے ۔ ایڈیسن کی ماں عجیب تھی جس نے سارے فیصلے خود ہی کر لیے۔ا با جی کا ذکر ہی کوئی نہیں ہے۔ پچھلے دنوں میں نے ایک پوسٹ دیکھی جس میں بتایا گیا تھا کہ ماں کا صبر بچے کو بہت اونچا مقام دلاتا ہے۔ اس میں اس طرح لکھا تھا۔ ماں کھانا بنا رہی تھی بچہ بار بار تنگ کر رہا تھا۔ ماں نے بچے کو باہر جا کر کھیلنے کو کہا تو بچہ باہر چلا گیا ، تھوڑی دیر بعد مٹھیا ں بھر کر آیا اور کھانے میں مٹی ملا دی۔ ماں نے انتہائی غصہ میں کہا، جا تجھے اللہ خانہ کعبہ کا امام بناے۔ یہ واقعہ خانہ کعبہ کے امام کی طرف سے لکھا گیا کہ وہ یوں کہتے ہیں ۔ یہاں بھی گڑبڑ کا معاملہ ظاہر ہوتا ہے۔ ایک بچہ کھانے میں مٹی ملا دیتا ہے اور ماں اسے نہ ڈانتی ہے نہ ہی ابا جی کو شکائت کرتی ہے۔ اور تو اوردعا دیتی ہے اور ایسا بچہ خانہ کعبہ کا امام بن بھی جاتا ہے۔ ہمارے ہاں اکثر باتیں جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں اور یہ جھوٹ اس قدر وسیع پیمانے پر پھیلا دیاجاتا ہے کہ ہم انکھیں بند کر کے اس پر یقین کر لیتے ہیں ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ بچہ کو پالنا مشکل کام ہے ۔ یہ کام ماں کے ذمہ سونپاگیا ہے۔چونکہ وہ بہت ذیادہ تکالیف سہہ کر بچے کو جنم دیتی ہے لہذا بچے کا ہمددر ماں سے ذیادہ کوئی نہیں ہو سکتا ۔ لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی ماں بچے کی تربیت اس وقت تک اچھی نہیں کر سکتی جب تک کہ اسے
دوسروں کا سہارا میسر نہ ہو۔خاص طور پر شوہر کا ۔ بچے ماں سے ذیادہ باپ کا اثر لیتے ہیں ۔

آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہمارا دماغ کیسے کام کرتا ہے۔ ہم انسانوں کو اگر کوئی گدھا کہے تو غصے سے مارنے ،مرنے پر آ جاتے ہیں اور کوئی جب شیر یا شیرنی کہتا ہے تو خوشی سے سینہ پھول جاتا ہے۔ انسان قدرتی طور پر خود مختار ہونا چاہتا ہے۔ بچوں کو بڑھے ہونے کی جلدی ہوتی ہے۔وہی بچے کیسے صرف ماں سے سیکھ سکتے ہیں جو خود مختار نہیں ہوتی۔ کم سے کم ہمارے معاشرے میں تو عورت ایک چوتھائی بھی خود مختار نہیں ۔ بچہ اپنے گھر میں جس کو حاکم دیکھتا ہے اسی کے گن گاتا ہے بلکہ اسی جیسا بننا چاہتا ہےممکن ہے کہ آپ کہیں کہ ایسا نہیں ہے مگر میں بیس فی صد عورتوں کی بات نہیں کر رہی۔ جن کے شوہر ان کا پرس گلے میں ڈالے پھرتے ہیں ۔ میں ان اسی فی صد عورتوں کی بات کر رہی ہوں۔ جن کی بات نہ تو سنی جاتی ہے اور نہ ہی سمجھی جاتی ہے۔ہماری ان اسی فیصد عورتوں کی ساری زندگی شوہر کی خدمت کرتے اور ساس کی خوشامد کرتے گزر جاتی ہے ۔جن عورتوں کی بات نیپولین کرتا ہے ۔ تم مجھے پڑھی لکھی مائیں دو ،میں تمہیں پڑھی لکھی قوم دوں گا۔ وہ عورتیں ہمارے معاشرے کی نہیں ہو سکتی۔ ہمارے ہاں تو پڑھی لکھی ہو یا ان پڑھ اگر وہ مڈل کلاس سے یا اس سے کم سے تعلق رکھتی ہے تو وہ انسانی حقوق بھی شازو نادر ہی رکھتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں جہاں بچہ پیدا ہونے کے بعد نام باپ رکھتا ہے۔ وہ گویا بنے گا یا حافظ قرآن باپ طے کرتا ہے۔ یہاں تک کہ عورت مذید ماں بنے گی یا نہیں یہ بھی اس کا شوہر طے کرتا ہے۔ اگر بغور دیکھا جائے تو بچے کی تربیت میں ماں سے ذیادہ کردار باپ کا ہوتا ہے ۔ باپ کے بعد دوسرے رشتے بھی خاص اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔ مثلاًدادا ،دادی ،چاچا ،پھو پھو وغیرہ وغیرہ۔

اب آپ کے دماغ میں ضرور آئے گا کہ باپ بے چارہ باہر کا کام کرئے یا پھر بیٹھ کر بچوں کی تربیت کرتا پھرے۔ تو سچ تو یہ ہے کہ جس کو جس قدر آزادی اور علم دیا گیا ہےاسے اسی قدر ذمہ داریاں بھی سونپی گئی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں حکیم لقمان اپنے بیٹے کو نصحت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں نہ کہ حضرت مریم ؑ۔ جہاں بھی ماں کی تربیت سے ہونہار بننے کے واقعے میری نظر سے گزرے ہیں۔ ان میں یا تو باپ مر گیا ہوتا ہے یا پھر کہیں دور چلا گیا ہوتا ہے۔ ایسے میں ماں کی خوبیاں اور خامیاں بچے پر شدت سے اثر انداز ہوتی ہیں ۔ عبدالرحمن ڈکیت سے جب اس کی آخری خواہش پوچھی گئی تو اس نے کہا میری خواہش ہے کہ میری ماں کو بھی پھانسی دی جائے ،جس نے پہلی بار انڈے چوری کرنے پر مجھے شاباش دی تھی۔میرا یہ آرٹیکل لکھنے کا مقصد کسی صورت یہ نہیں کہ میں اس بات پر آمادہ کروں کہ بچے کی تربیت میں ماں کا کوئی کردار نہیں ۔ بلکہ ماں ایک اہم فرد ہے ۔ جس سے بچے سیکھتے ہیں مگر باپ کا کردار اور زمہ داری ماں سے کہیں بڑھ کر ہے۔

شیخ سعدی اپنی تربیت کے سلسلے میں بتاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میرے والد گرامی مجھے تہجد کے وقت جگا دیتے ۔ میں ان کےساتھ تلاوت کرتا اور ان سے علم سیکھتا ۔ ایک دفعہ میں جب تہجد کی نماز پڑھ چکا تو والد گرامی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ میرے دل میں ایک خیال گزرا اور میں نے اپنے والد محترم سے کہا ۔ ابا جان یہ کیسے غافل لوگ ہیں ہمارے اردگرد رہنےوالے ۔رب کو یاد کرنے کی بجائے غفلت سے سورہے ہیں ۔ شیخ سعدی کے والد نے ان سے خفا ہوتے ہوئے کہا۔ اس سے تو اچھا تھا تم بھی سو جاتے ،یہاں بیٹھ کر لوگوں کی غیبت کر رہے ہو۔

ہمارے معاشرے میں جہاں شوہر عقل قل کی حیثیت رکھتا ہے وہاں یہ جملہ کہنا چاہیے کہ تم مجھے پڑھے لکھے باشعور باپ دو میں تمہیں تہذیب یافتہ قوم دوں گا۔ نیپولین اگر ہمارے معاشرے میں اب مو جود ہوتا تو وہ ضرور اپنے جملے کو اس جملے سے بدل دیتا۔ کیونکہ ہمارے ہاں کہ جملے کچھ اس طرح کے ہیں ۔
عورت فساد کی جڑ ہے۔
عورت پاوں کی جوتی ہے۔
عورت ناقص العقل ہے۔
عورت کی عقل گھٹنوں میں ہوتی ہے۔
عورت پر کبھی اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔
عورت کی ماننے والے کا کبھی بھلا نہیں ہوتا ۔ حضرت آدم ؑ کی مثال دی جاتی ہے۔
اگر عورت نہ ہوتی تو ہر مرد ولی ہوتا۔

اس طرح کے بہت سے اور جملے بھی ہیں۔جو ہمارے معاشرے کے چہرے سے وہ نقاب چیر کر رکھ دیتے ہیں جس کے اوپر لکھا جاتا ہے ۔ ماں کے قدموں میں جنت ہے۔ماں بچے کی پہلی درسگاہ ہے۔ وہ درسگاہ جسے شادی کے بعد کہا جاتا ہے۔ جو کچھ تم نے سیکھا ہے بھول جاو۔ اب وہ کرو جو ہمارے گھر کے طور طریقے ہیں اور جو میں تم سے کہوں۔ہمارے ہاں بیویوں اور بہووں کی دوبارہ سے تربیت کی جاتی ہے۔ وہ بے چاری بچوں کی کیا خاک تربیت کریں گی۔

ملالہ یوسف ذئی نے کیا خوب ہمارے معاشرے کی عکاسی کرتے ہوئے اپنی تقریر میں وہ الفاظ بول دیےجو ہر باپ کے لیے لمحہ فکریہ ہیں ۔ اس نے کہا کہ میں شکریہ ادا کرتی ہوں اپنے والد کا جنہوں نے میرے پر نہیں کاٹے اور مجھے اُڑنے دیا۔ اپنی ماں کا بھی جس نے مجھے صبر سکھایا۔ اس کی بات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کیسے ہمارے ہاں لڑکیوں کی پرواز کو کچل دیا جاتا ہے۔ ان کے خوابوں کی کرچیاں وہ ساری عمر اپنے لہو لہان ہاتھوں سے چنتی نظر آتی ہیں ۔ جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے خوشی کا ڈھونگ کرتی ہیں یا پھر اس خوش کی تلاش جو ان سے چھین لی جاتی ہے۔ایسی مایوس مائیں کیا خاک اپنی بیٹیوں اور بیٹوں کی تربیت کریں گی۔ سچ تو یہی ہے کہ ہمارے معاشرے میں تربیت کا جو ڈھول ماں کے نام پر پیٹا جاتا ہے اس کی آواز میں خوبصورتی یا شور کی وجہ باپ ہوتا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: kanwalnaveed

Read More Articles by kanwalnaveed: 124 Articles with 182272 views »
Most important thing in life is respect. According to human being we should chose good words even in unhappy situations of life. I like those people w.. View More
17 Dec, 2017 Views: 702

Comments

آپ کی رائے