میٹرو لائن اورنج ٹرین منصوبہ

(Dr Ch Tanweer Sarwar, Lahore)

میٹر و لائن اورنج ٹرین کا کام کئی ماہ سے رکا ہوا تھا اس کی وجہ ہائی کورٹ نے 11 تعمیراتی کام پر حکم امتناہی دے رکھا تھا لیکن سپریم کورٹ نے حال ہی میں اس منصوبہ کو جاری رکھنے کا عندیہ دیا تھا اب دوبارہ سے اس منصوبے پر کام شروع کر دیا گیا ہے لاہور ایک تاریخی شہر ہے لیکن تاریخی اہمیت کو مسخ کئے بغیر اس شہر میں جدید منصوبے متعارف کروانا بھی وقت کی اہم ضرورت ہیں ان منصوبوں سے شہر کی خوبصورتی اور جدت میں اضافہ ہوتا ہے۔

میٹرو ٹرین کا منصوبہ جہاں شہر کی خوبصورتی کا باعث بنے گا وہاں یہ عام آدمی کی سفری سہولتوں کو بھی پورا کرے گا۔دنیا کے اکثر ممالک میں یہ منصوبہ کامیابی سے چل رہا ہے کیونکہ یہ منصوبہ عوام کی بہتری کے لئے شروع کیا گیا ہے اور خالصتاً یہ عوامی منصوبہ ہے اس لئے اس کی بھر پور حمایت کرنی چاہیئے اور ہمیں اس کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے سے گریز کرنا چاہیئے۔

جہاں تک کرپشن کا معاملہ ہے تو پاکستان میں کون سا منصوبہ بغیر کرپشن کے مکمل ہوا ہے یقینا ہمیں ملک سے کرپشن کے خاتمہ کے لئے بھی بھر پور کام کرنا ہو گا تا کہ میرا پاک وطن بھی کرپشن سے پاک ہو سکے کرپشن کے خاتمے سے ہی ہم ترقی کی راہ پرگامزن ہو سکیں گے بہت سے ممالک جو ہم سے بہت پیچھے تھے آج وہ ہم سے زیادہ خوشحال ہیں ہماری ترقی کی راہ میں کرپشن ہی سب سے بڑی وجہ ہے ۔ آنے والے انتخابات میں وہی کامیابی حاصل کرے گا جو ملک سے کرپشن کا خاتمہ ممکن بنائے گا اگر اب بھی ایسا نہ کیا گیا تو ہماری آنے والی نئی نسل ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق اب تک منصوبے کا سول ورک 75% تک مکمل کر لیا گیاہے اور مکینیکل کام بھی تقریباً 29% تک مکمل کیا جا چکا ہے اس کے علاوہ ابھی تک ٹرین کے12 اسٹیشن پر کام جاری ہے اور امید کرتے ہیں کہ ان کو بھی جلد مکمل کر لیا جائے گا ابھی تین شفٹوں میں کام تیزی سے جاری ہے اس کے علاوہ جہاں جہاں کام روک دیا گیا تھا اب سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد دوبارہ کام شروع کر دیا گیا ہے اور وہاں بھی پل کی تعمیر جاری ہے اس کے علاوہ لائن بھی بچھائی جا رہی ہے امید رکھتے ہیں کہ جلد ہی یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچ جائے گا یقیناً کام رکنے کی وجہ سے اس منصوبہ پر اب اضافی بوجھ بھی پڑے گا جو نہ صرف پاکستان کا بلکہ عوام کا بھی نقصان ہے اس منصوبے کے ساتھ ساتھ سڑکوں کی بحالی کا کام بھی تیزی سے کیا جا رہا ہے تا کہ شہر میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کیا جا سکے اس منصوبے سے اکثر شہر کی ٹریفک کو روانی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں لیکن اب سڑکیں بننے سے دباؤ میں کچھ کمی آئی ہے۔
 
ابھی تک 10بوگیاں اور 2انجن لاہور پہنچ چکے ہیں جبکہ مزید شنگھائی سے روانہ کئے جا چکے ہیں ایک اندازے کے مطابق چین سے 10 سیٹ منگوائے جا رہے ہیں ایک سیٹ میں 5 بوگیاں لگائی جائیں گی چین سے آنے والی تمام میٹرو ٹرین کو ڈیرہ گجراں کے ڈپو میں رکھا گیا ہے اور اس کا باقائدہ افتتاح وزیر اعلیٰ صاحب نے کیا تھایہ منصوبہ پاک چین دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے انشا اﷲ آنے وقتوں میں پاک چین دوستی مزید مظبوط ہو گی اور سی پیک کے منصوبے سے دونوں ممالک ایک دوسرے کے نہ صرف مزیدقریب ہو جائیں گے بلکہ پاکستان میں بھی ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: H/Dr Ch Tanweer Sarwar

Read More Articles by H/Dr Ch Tanweer Sarwar: 287 Articles with 1328448 views »
I am homeo physician,writer,author,graphic designer and poet.I have written five computer books.I like also read islamic books.I love recite Quran dai.. View More
18 Dec, 2017 Views: 366

Comments

آپ کی رائے