وطن سے دوری

(Aslam Lodhi, Lahore)

وطن کی محبت کا احساس اس وقت ہوتاہے جب انسان اس سے دور ہوتا ہے ۔وطن عزیز میں رہتے ہوئے اس کی چاہت اور محبت کا احساس نہیں ہوتا۔ میرا ایک دوست نما بیٹا رانا فہد گزشتہ کئی سالوں سے ملازمت کے سلسلے میں دوبئی میں مقیم ہے ۔ ایک دن اس نے مجھے ایک ویڈیو واٹس اپ بھی بھجوائی۔یہ ویڈیو اس کی رہائش گاہ کے اندرونی منظر کی عکاسی کررہی تھی ۔ ویڈیو دیکھنے کے بعد میں نے حسرت بھرے جذبات سے کہا ۔رانا صاحب آپ تو شہزادوں کی طرح دوبئی میں زندگی انجوائے کر رہے ہیں ۔جہاں فائیو سٹار ہوٹل کی تمام سہولتیں میسر ہیں ۔ اس نے میری بات کا جواب دیتے ہوئے کہا سر آپ یہ سب کچھ لے لیں لیکن مجھ سے میرا وطن ملا دیں ۔ مجھے اس کی یہ بات بہت عجیب لگی کیونکہ میں یہی سمجھتا تھا کہ جو لوگ بطور خاص دوبئی یا یورپ میں جاتے ہیں وہ اپنے سنہرے خوابوں کی تعبیر پر پھولے نہیں سماتے ہیں ۔ یہاں یہ عرض کرتا چلوں کہ ہماری نوجوان نسل جائز و ناجائز طریقے سے دوبئی اور یورپی ممالک جانے کے لیے کوشاں رہتی ہے ۔کچھ لوگ تو کوئٹہ سے تفتان اور تفتان سے ایران اور ایران سے ترکی کے راستے یورپ میں جانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ غیر قانونی طریقوں سے جانے والے اکثر ایران یا ترکی میں ہی پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہوکر جیلوں میں اپنی آدھی عمر گنوا بیٹھتے ہیں ۔منزل انہیں پھر بھی نہیں ملتی ۔

ایک دن میں سعید جاوید صاحب کی کتاب "اچھی گزر گئی " پڑھ رہا تھا ۔اس کتاب میں مصنف نے ایک واقعہ درج کیا ہے جو بطور خاص بیرون ملک جانے والوں کے لیے عبرت کا باعث تھا ۔مصنف لکھتے ہیں کہ یہ ان دنوں کی بات ہے ٗ جب سعودی عرب کے دارلحکومت ریاض شہر نے ابھی ترقی نہیں کی تھی بلکہ اس کا شمار پسماندہ شہروں میں ہی ہوتا تھا۔ جو لوگ ملازمت کے لیے سعودی عرب جاتے انہیں بے پناہ مشکلات اور مصائب کا سامنا کرناپڑتا ۔ وہ لکھتے ہیں ایک مرتبہ میں بک سٹال پر رسائل اور اخبارات دیکھ رہا تھا۔ یہ بک سٹال پاکستانی کا تھا ۔اچانک ایک پاکستانی لڑکی بھاگتی ہوئی بکسٹال میں داخل ہوئی جس نے آتے ہی ایک خط بکسٹال کے مالک کو دیا اور درخواست کی کہ مجھے چھپا لیاجائے کچھ لوگ میرا پیچھا کررہے ہیں ۔ابھی وہ بات کر ہی رہی تھی کہ ایک سعودی فیملی ٗپولیس کے ہمراہ بکسٹال میں داخل ہوئی اور آتے ہی پاکستانی لڑکی کو گھسیٹ کر لے جانے لگی ۔بکسٹال کے مالک کو غصہ آیا تو اس نے لڑکی کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ عربی نے غصے کے عالم میں کہا اس پاکستانی لڑکی کو ہم نے پانچ سو ریال خرچ کرکے آیا کے طور پر کام کرنے کے لیے پاکستان سے منگوایا ہے ۔بکسٹال کے مالک نے پانچ سو ریال عربی کو دے کر اس پاکستانی لڑکی کی جان بچائی اور بعدمیں اسے پاکستان واپس بھجوا دیا۔ ایسے کتنے ہی واقعات سننے میں آتے ہیں ۔ان واقعات کے بارے میں جان کر یہ احساس ہوتا ہے کہ جو سکون اور عزت اپنے وطن میں ہے کسی اور جگہ نہیں ہے ۔دوسرے ملکوں میں جاکر انسان دوسرے بلکہ تیسرے درجے کاشہری بن جاتاہے ۔بلکہ عرب ممالک میں تو آج بھی کفیل اور غلام والا کھیل جاری ہے ۔
................
اس کے باوجود کہ رانا فہد مکہ کالونی گلبرگ تھرڈ لاہور کارہائشی ہے ۔ جہاں میری زندگی کے تیس سال گزرے ۔اتنا عرصہ رہنے کے باوجود میری کبھی ان سے ملاقات نہیں ہوئی۔یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ ان سے میری دوستی فیس بک پر ہوئی ۔ فیس بک پر ہی اس نے بتایا کہ وہ مکہ کالونی کا رہائشی ہے جہاں اسکا خاندان اب بھی آباد ہے۔سچ تو یہ ہے کہ فیس بک پر ہی گفتگو کے دوران میں نے محسوس کیاکہ وہ نہایت سلجھا ہوا ایک پرعزم نوجوان ہے ۔ایسا نوجوان جو ملک وقوم کے لیے کچھ کر گزرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتا ہے ۔ چھوٹی سی عمر میں اس کے رابطے بے شمار معززین شہر اور اہم سیاسی و معاشرتی شخصیات سے ہیں ۔ چونکہ اسے بات کرنے اور دوسروں کے دل میں گھر کرنے کا سلیقہ آتا ہے اس لیے وہ کسی بھی شخص کو پہلی ہی ملاقات میں اس قدر متاثر کرتا ہے کہ انسان سوچنے پر مجبور ہوجاتاہے کہ رانا فہد سے ملاقات میں اتنی دیر کیوں ہوئی ۔ وہ پہلے کیوں نہیں ملا۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ایسے ملنسار اور بااخلاق نوجوان قسمت سے ملا کرتے ہیں ۔جو دوسروں پر بوجھ نہیں بلکہ ان کا بوجھ بھی اپنے کاندھوں پر اٹھالیتے ہیں۔ ایک دن انہی کی فرمائش پر میں نے اپنے موبائل میں ایمو ڈاؤن لوڈ کروایا تاکہ وہ براہ راست مجھ سے بات کرسکے ۔ لیکن ہیرنگ پرابلم کی وجہ سے رانا فہد کی یہ خواہش پوری نہ ہوسکی کیونکہ انہیں ایمو پر میری شکل تو نظر آرہی تھی لیکن میرا جواب وہ نہیں تھا جو ان کے سوال کاجواب بنتا تھا ۔ چنانچہ اس نے مجھے یہ محسوس ہی نہیں ہونے دیا کہ میں اس کی دوستی کے قابل نہیں ہوں ۔بلکہ ا س کی جانب سے محبت اور چاہت کاسلسلہ دراز سے دراز ہوتا چلاگیا ۔

ہم دونوں روزانہ نہیں تو دوسرے تیسر ے دن فیس بک پر گفتگو کرتے رہے۔ کچھ وہ اپنی زندگی کے اہم واقعا ت مجھ سے شیئرکرتا۔ بطورخاص پروفیسر توفیق بٹ جو گورنمنٹ کالج گلبرگ میں اردو کے استاد تھے۔ ان سے وہ بہت متاثر تھے۔ان کی پرکشش شخصیت اور انداز تدریس کے حوالے وہ اکثر مجھ سے بات کرتے ۔ میں سمجھتا ہوں دوبئی میں ہونے کے باوجود ان کا دل اپنے پروفیسر توفیق بٹ کے گھر کی دہلیز پر صبح شام پڑا رہتا تھا ۔ایسا کیوں نہ ہوتا وہ ان کے آئیڈیل استاد تھے اور استاد ہمیشہ اچھے شاگردوں کو یاد رہتے ہیں۔

وقت گزرتا رہا- ہم دونوں کے مابین دوستی اور چاہت کاایک مضبوط رشتہ استوار ہوتارہا ۔ حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ ابھی ان سے بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی تھی لیکن وہ میرے دل پر مکمل قابض ہوچکے تھے اور میں انہیں اپنے بہت ہی اچھے اور بااعتماد دوست تصور کرنے لگا تھا ۔ایسا دوست جس سے انسان بے دھڑک اپنے دل کی بات کہہ لیتا تھا ۔

انہی کے توسط سے ایک دن مجھے حافظ ندیم اسلم کی کال موصول ہوئی جو مجھے اپنے سکول کے فنکشن میں بطورمہمان خصوصی بلانا چاہتے تھے ۔ حافظ ندیم اسلم صاحب اور میرے درمیان بھی احترام کا رشتہ رانا فہدکی وجہ سے تھا ۔ بنیاد ی طور پر رانا فہد سیاسی اور معاشرتی زندگی میں بھرپور کردار ادا کرنے کا شوقین نوجوان ہے ۔مکہ کالونی میں جتنے بھی مسلم لیگی ہیں۔ ان سب سے انکی گہری دوستی ہے بلکہ ان کی تصویر یں میں نے کئی بینروں پربھی نقش دیکھی ۔ مجھے یقین ہے اگر وہ دوبئی کی بجائے لاہور میں ہی ہوتا تو یقینا وہ بلدیاتی الیکشن میں کامیاب ہوچکا ہوتاوہ حقیقی معنوں میں نوجوان نسل کا نوجوان اور پرعزم پیدائشی لیڈر ہے ۔جس میں وطن سے محبت اور اخلاص کی دولت کوٹ کوٹ کر بھری ہے ۔

نئے سال کی تقریبا ت کا جشن ہرسال دوبئی میں بہت جوش و خروش سے منایا جاتاہے ۔ رانا فہد نے نیو ایئرنائٹ کو خوب انجوائے کیا اور اس موقع پر بنائی گئی اپنی تصویریں مجھے فیس بک کے ان بکس میں بھجوائیں ۔ان تصویروں کو دیکھ کر یوں محسوس ہورہا تھا ٗ جیسے کسی ملک کا شہزادہ ( پرنس) اپنے پرشکوہ محلات میں کھڑاہوا ہو ۔ اﷲ تعالی نے انہیں نہ صرف اخلاق اور بہترین کردار کی دولت سے نوازا ہے بلکہ شکل و صورت بھی کمال کی عطاکی ہے کہ ہر کوئی اس سے دوستی کاطلب گار نظر آتا ہے ۔

رانا فہد اپنے والدین سے والہانہ محبت کرنے کے باوجود اپنی ننھی منی بیٹی سے بہت ہی پیار کرتا ہے جس کی یاد ہمیشہ ان کے دامن گیر رہتی ہے ۔وہ سمندر پار بیٹھا اپنی بیٹی کی اداؤں میں ہمیشہ کھویا رہتا ہے ان کی باتوں میں بات کی شفقت اور ماں کی محبت بھی شامل ہے اگر اس کا بس چلے تو وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اپنی بیٹی کو ملنے کے لیے پاکستان آجائے لیکن معاشی مجبوریوں نے ان کے قدموں کو روک رکھاہے ۔ایک دن اس نے مجھے ایک بچی کی تصویر بھجوائی اور درخواست کی کہ یہ میری بیٹی کی تصویر ہے۔ اگر ممکن ہوسکے تو اسے کسی میگزین یا اخبار میں شائع کروا دیں ۔ یہ بچی میری زندگی ہے ۔ جب بھی شام ڈھلتی ہے تو مجھے والدین کے ساتھ ساتھ یہ اپنی بچی بہت یاد آتی ہے ۔ دل چاہتا ہے کہ مجھے پر لگ جائیں اور اڑکر اپنی بیٹی کے پاس پہنچ جاؤں اور جی بھر کے اسے پیار کروں ۔شاید اولاد کی محبت فطری ہے ۔ رانا فہد نے مجھے بتایا کہ اﷲ کا دیا ہوا اس کے پاس دوبئی میں سب کچھ ہے ٗ اگر نہیں ہے تو والدین کا پیار اور بیٹی کی محبت نہیں ہے ۔ اس کے باوجود کہ روزانہ لائیو کال پر بات ہوتی ہے ٗ میں اپنی ننھی منی بچی کو ہنستا کھیلتا موبائل کی سکرین پر دیکھتا ہوں لیکن اسے چھو نہیں سکتا ۔وہ مجھ سے ہزاروں میل دور ہے۔ یہی تشنگی اوراحساس مجھے اداس کردیتی ہے اور آنکھوں میں آنسو لیے نیندکی گہری وادی میں اتر جاتاہوں ۔ اس بچی کی تصویر کو میں نے ہفت روزہ مارگلہ نیوز انٹرنیشنل میگزین میں شائع کروایا تو رانا فہد بہت خوش ہوا۔

ایک دن اس نے خوشخبری سنائی کہ وہ عیدالفطر پاکستان میں منائیں گے ۔ یقینا یہ خبر میرے لیے بھی خوشی کا باعث تھی۔ جب وہ عید سے چند دن پہلے اپنے وطن پہنچا تو ایک شام کسی ہوٹل میں شاندار ضیافت کااہتمام کیا اور مجھے بھی اس ضیافت میں شامل ہونے کی دعوت دی ۔ بدقسمتی سے ماہ رمضان کی اسی شام زور دار بارش برسی کہ پورا لاہور بارش کے پانی میں ڈوب گیا۔ اس لیے میں تو نہ جاسکا ۔باقی تمام دوستوں نے خوب انجوائے کیا۔ میری ان سے پہلی اور بالمشافہ ملاقات عید الفطر کے دن ہوئی جب میں سنی ویو قبرستان میں اپنے والدین کے لیے دعائے مغفرت کرکے واپس لوٹا ۔ رانا صاحب نے اپنے گھر میں میرا شاندار استقبال کیا ۔ میرے ساتھ اس وقت ملک ریاض بھی تھا جو اکثر مدد گار کی حیثیت سے میرے ساتھ رہتا تھا ۔ پرتکلف چائے کے ساتھ کافی دیر تک گپ شپ ہوئی پھر رانا فہدنے مجھے دوبئی سے لائے ہوئے دو سپرے دیئے ۔جب بھی میں انہیں استعمال کرتا ہوں تو رانا فہد کی تصویر ابھر آتی ہے ۔اس سے پہلے وہ ایک ڈائری اور ٹائم پیس بھجوا چکے تھا ۔ چند دن کے بعد پتہ چلا کہ ان کی طبیعت سخت خراب ہوگئی ہے ۔ علاج کروانے کے باوجود افاقہ نہیں ہورہا ۔کمزوری اس قدر بڑھ گئی کہ وہ بغیر سہارے کے چل بھی نہیں سکتا ۔ یہ سن کر میں بہت پریشان ہوا اور تہجد کے سجدوں میں اس کے لیے دعا کا سلسلہ کافی دنوں تک جاری رہا۔ پھر دوبئی واپسی سے ایک دن پہلے وہ کسی دوست کے ہمراہ میرے گھر تشریف آیا تو صحت قدرے بہتردکھائی دی۔یہ دیکھ کر رب کا شکر ادا کیا اور اگلے دن رانا فہد ایک بار پھر اپنوں سے جدا ہوکر اورمجھے داغ مفارقت دے کر دوبئی کی خوشگوار فضاؤں میں جابسا ۔

رابطے ایک بار پھر فیس بک تک محدود ہوگئے جبکہ دلوں میں محبت کاآلاؤ بڑھتا رہا۔ جب دونوں جانب سے پرخلوص چاہتوں کا اظہار ہو تو وقت گزرنے کااحساس نہیں رہتا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے نومبر کامہینہ شروع ہوگیا ۔ یہ جان کر پھر خوشی ہوئی کہ رانا فہد 24نومبر 2017ء کو ایک بار پھر پندرہ دن کی چھٹی پر پاکستان آ رہے ہیں ۔ اس مرتبہ انہوں نے براہ راست لاہور اترنے کی بجائے اپنے سسرال کے شہر ملتان اترنے کا فیصلہ کیا ۔ شیڈول کے مطابق انہیں اپنے سسرال میں چار دن رہ کر لاہور آنا تھا ۔واپسی سے ایک دن پہلے میں نے ان سے پوچھا کہ کیسا محسوس ہورہا ہے تو انہوں نے بتایا بہت اچھا لگ رہا ہے ۔وہ وقت کیسا ہوگا جب میں اپنے وطن کی سرزمین پاک پر قدم رکھوں گا۔والدین کی محبت کے ساتھ ساتھ دیار غیر میں وطن کی چاہت دوگنی ہوجاتی ہے ٗجس کی زمین پر انسان پاؤں رکھ کر چلنا سیکھتا ہے ۔جی چاہتا ہے ۔اڑ کے پاکستان پہنچ جاؤں ۔ یہ محبت بھرے جذبات لے کر رانا فہد24 نومبر کی صبح 3 بجے بروز جمعہ ملتان پہنچے ۔ابھی ایک ہی دن سسرال میں گزرا ہوگا کہ والدہ کی جانب سے ہدایت ملی کہ جتنی جلدی ممکن ہو لاہور آ جائیں۔

میں نے خیریت دریافت کرنے کے بعد از راہ مذاق پوچھا۔سنا ہے سسرال میں بہت خدمتیں کروائی جارہی ہیں ۔ راناصاحب نے جواب دیا امی جان کا حکم ہے کہ جلد لاہور پہنچوں چنانچہ میں کل ہی میں لاہور روانہ ہوجاؤں گا ۔ اگلی صبح بروز ہفتہ 25 نومبر جیسے ہی رانا فہد نے فیملی سمیت لاہور کے سفر آغاز کیا توفیض آباد میں خادم حسین رضوی کیے ختم نبوت کے حوالے سے دھرنے کے خلاف حکومت نے ایکشن کیا۔ جس کا ردعمل پورے پاکستان میں دیکھا گیا ۔مدرسوں کے طالب علموں اور مذہبی گروپوں نے نقل و حرکت مفلوج کر دی ۔ جی ٹی روڈ ٗ موٹرویے اورریلوے سسٹم بلاک کردی گئیں حالات کو مزید خرابی کی جانب جانے سے روکنے کے لیے ٹی وی کی نشریات بھی ڈیڑھ دن بند رہی ۔ جب رانا فہد سے موبائل پربات ہوئی تو انہوں نے نہایت افسردہ لہجے میں کہا تمام راستے بند کردیئے گئے ہیں ہم جس بس میں سوار ہوکر لاہور آرہے تھے وہ بھی ہجوم کے حصار میں آچکی ہے۔سمجھ نہیں آتی اب کیا کروں ۔نہ ہم آگے جاسکتے ہیں اور نہ پیچھے ۔بپھرہ ہوا ہجوم پتھراؤ کرنے اور آگ لگانے کے لیے دوڑ بھاگ کررہا تھا ۔ان لمحات میں ایک ایسے پاکستانی کے دلی جذبات کیا ہوں گے جو بیشمار امیدیں لے کر پاکستان آیا ہوں اور اسے اس قسم کی پریشان کن صورت حال کا سامنا کرنا پڑ جائے ۔

اس صورت حال سے صرف رانا فہد پریشان نہیں تھا بلکہ میں خود بھی پریشان تھا۔ اسی تکلیف دہ صورت حال میں چار دن گزر گئے اور ہرمحب وطن پاکستانی سخت مضطرب تھا ۔چار دن کے بعد حکومت اور خادم حسین رضوی کے مابین معاہدہ ہوا تب کہیں جاکر راستے کھلے اور راناصاحب فیملی سمیت لاہور تشریف لائے ۔ اسی شام انہوں نے مجھے اپنے گھر شام کے کھانے پربلایا۔میں بیگم سمیت ان کے گھر گیا جہاں انکی والدہ سے بھی ملاقات ہوئی ۔پرتکلف کھانے کے بعد ہم رات گئے گھر چلے آئے اور میں نے سوچا اب جتنا وقت باقی ہے اسے اپنی فیملی کے ساتھ گزارنا چاہیئے ۔اس دوران موبائل پر رابطہ رہا لیکن دوبئی واپس جانے سے ایک دن پہلے وہ اپنے ہر دلعزیز دوست ملک ابوبکر کے ہمراہ برستی بارش کے دوران ہی میرے گھر آئے اور اپنی محبتوں سے نوازا۔ ایک گھنٹہ بھر ملاقات ہوئی ٗابھی تشنگی باقی تھی کہ وہ اجازت لے کر چلتے بنے کہ انہیں دوبئی واپسی کے لیے تیاری کرنی ہے ۔اگلی رات دس بجے جب وہ ائیرپورٹ پر جہاز پر سوار ہونے ہی والے تھے تو ان کا پیغام موبائل موصول ہوا ۔وطن اوراپنوں سے بچھڑنے کو دل نہیں کرتا ۔ میں بہت اداس ہوں ۔پھر انہی جذبات کے ساتھ وہ ایک بار پھر ہم سے اپنے وطن سے جدا ہوکر دوبئی جابسا ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aslam Lodhi

Read More Articles by Aslam Lodhi: 575 Articles with 291651 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Dec, 2017 Views: 525

Comments

آپ کی رائے