مشہور بھارتی اداکار دھرمیندر ان دنوں اپنی طبیعت کی بنا پر گھر ہی میں زندگی گزار رہے ہیں، لیکن اپنی زندگی میں آنے والے تکلیف دہ لمحات کو جب وہ مداحوں سے شئیر کرتے ہیں تو آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
دھرمیندر کا شمار ان چند اداکاراؤں میں ہوتا ہے جو کہ ماضی کی مقبول فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھا چکے ہیں، لیکن اب اداکار بطور دادا اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
بھارتی اداکار کے سینئر ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دھرمیندر اور اداکار دلیپ کمار بہترین دوست تھے، جب دلیپ کمار کا انتقال ہوا تو دھرمیندر ٹوٹ کر رہ گئے تھے، وہ دلیپ کمار کی میت کے پاس بیٹھے رو رہے تھے۔
دھرمیندر ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھنے تھے، جبکہ دھرمیندر کا خواب تھا کہ وہ اداکار بن کر والدین کا نام روشن کریں اور اپنا سپنا بھی۔ لیکن ان کے اس خواب کو پورا کرنے میں انہیں تنہا ہی محنت کرنا پڑتی، کبھی دن بھر بھوکا رہتے کبھی چاہ کر بھی خود کو بھوکا رکھتے کہ کہیں پیسے خرچ نہ ہو جائیں۔
لیکن جب ایک ریئلٹی شو میں اپنے پوتے کرن دیول کو فلم کی تشہیر کرتے بہترین پرفامنس کرتے دیکھا تو آنکھوں میں آنسو تھے اور اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے رو دیے۔
اداکار اس لیے بھی جذباتی ہو گئے کیونکہ پوتا اداکار تو بن گیا مگر اسے وہ محنت نہیں کرنی پڑی جو اس کے دادا نے کی تھی، پوتے کو بنا کسی تکلیف برداشت کیے، بھوکے پیٹ رہے اپنا خواب پورا کرے کا موقع ملا، جبکہ مجھے اس سب میں بہت محنت کرنا پڑی تھی۔
اداکار دھرمیندر نے اسلام قبول کر لیا تھا، جبکہ ان کی اہلیہ ہیما مالنی بھی مسلمان ہو گئی تھیں۔ یہ کہانی لوگوں کو حیرت میں مبتلا کرتی ہے، دراصل دھرمیندر ہیمالنی سے ملنے سے پہلے ہی شادی شدہ تھے، پہلی بیوی نے دھرمیندر کے دو بیٹے ہیں، سنی دیول اور بوبی دیول۔ لیکن ہیما مالنی کو دل دے بیٹھے تھے۔
دوسری جانب ہیما مالنی بھی کئی مشہور اداکاروں کے پروپوزل ٹھکرا چکی تھیں۔ ویسے تو دونوں نئی زندگی کے لیے تیار تھے مگر اس راہ کے درمیان ایک اہم مسئلہ درپیش تھا اور وہ تھا ہندو میریج ایکٹ، جس کے تحت آپ اپنی پہلی بیوی کو طلاق دیے بغیر دوسری سے شادی نہیں کر سکتے۔
یہی وجہ تھی کہ 1979 میں دھرمیندر نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کیا، محض شادی کے لیے دھرمیندر نے اسلام قبول کیا۔ اپنا نام بھی دھرمیندر سے دلاور خان کیول کرشن رکھا، دوسری جانب ہیما مالنی نے بھی اسلام قبول کیا اور اپنا نام عائشہ بی رکھا۔
اس طرح دونوں کی شادی 1980 میں انجام پائی۔ اگرچہ دونوں نے اسلام قبول کیا مگر پریکٹسنگ مسلم نہیں ہیں۔