دبئی انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں سری لنکا نے ایشیا کپ کے فائنل میں پاکستان کو شکست سے دوچار کرکے ٹرافی اپنے نام کرلی ۔ سری لنکن ٹیم نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا اور بہترین بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ تینوں شعبوں میں اپنی کارکردگی کو برقرار رکھا اور پاکستانی شائقین کی امیدوں پر پانی پھیردیا۔
لیکن اس شکست کے باوجود پاکستانیوں کو اپنی ٹیم کی پرفارمنس نے مایوس تو کیا لیکن سری لنکن ٹیم کی جیت کی خوشی بھی ہے کیونکہ انہوں نے محنت کی اوروہ اس ٹرافی کے مستحق تھے۔ اسٹیڈیم میں موجود لوگوں کا بھی کہنا تھا کہ ہارنے کا دکھ تو ہے لیکن کم از کم ہم انڈیا سے تو جیت گئے یہ خوشی زیادہ ہے۔ سری لنکا سے ہارنے کا اتنا زیادہ دکھ نہیں ہے۔ کسی نہ کسی ٹیم کو تو جیتنا ہی تھا، سری لنکا نے اچھے کھیل کا مظاہرہ کیا تو وہ جیت گئے۔ ہماری ٹیم نے ہر شعبے میں خراب کارکردگی دکھائی تو وہ ہار گئے۔
اسی ایشیا کپ میں پاکستانی اداکارہ اور سوشل میڈیا پر بہت مقبول مومن ثاقب بھی اپنی ٹیم کی ہار سے خاصے مایوس نظرآئے۔ اس سے پہلے انڈیا اور افغانستان کے خلاف پاکستان کی جیت پر ان کے خاصے پرجوش قسم کے کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے تھے لیکن اس شکست کے بعد ان کا کہنا تھا کہ " دبئی انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں جو ایشیا کپ کا فائنل ہوا اس میں ایک اچھی بات یہ تھی کہ ہماری ٹیم فائنل تک پہنچی لیکن خوشی ایک ایسی چیز ہے جو انسان کے پاس زیادہ دیر تک نہیں رہتی۔ جس طرح برے وقت کی اچھی بات ہے کہ وہ گزر جاتا ہے اسی طرح اچھے وقت کی بری بات ہے کہ وہ بھی گزر جاتا ہے۔ پاکستانی ٹیم فائنل میں آگئی لیکن جیت نہیں سکی اس کی کارکردگی اتنی اچھی نہیں تھی، کوئی بات نہیں میں اپنے پاکستانی بہن بھائیوں کو وہ وقت یاد دلاؤں جب پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ نہیں تھی تو اس وقت کون ہمارے لئے آگے آیا کس نے ہمارا ساتھ دیا، وہ سری لنکن ٹیم ہی تھی، جب پاکستان کو انٹرنیشنل کرکٹ کی ضرورت تھی توسری لنکا ٹیم نے ہمیں سپورٹ کیا اورویسے بھی سری لنکا اس وقت مشکل دور سے گزر رہا ہے تو ان کے لئے اس جیت کی ضرورت تھی۔ اس لئے کوئی بات نہیں سری لنکا نے اچھا کھیلا تو وہ جیت گئے۔