بیٹے کو کھلاڑی بنانے کے لئے خود بھوکا رہا اور ٹیکسی بھی چلائی۔۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والے برطانوی کھلاڑی کے باپ نے بچوں کی پرورش کے لئے کیا مشکلات جھیلیں؟

image

“میرا بیٹا معین ایکٹیو بچہ تھا۔ ہر بچے کی طرح تیز طرار تھا لیکن شرارتی نہیں تھا۔ میں نے اپنے بچوں کی پرورش کے لئے بہت محنت کی ہے۔ ایشیئن ہوتے ہوئے انگلینڈ کی زندگی میرے لئے آسان نہیں تھی۔ میں نے بہت مشکل حالات دیکھے۔ اسپتال میں کام کرتا تھا۔ کبھی پتہ نہیں چلتا تھا کہ دن کی ڈیوٹی ہوگی یا رات کی۔ اس لئے یہ کام چھوڑ دیا کیوں کہ بچوں کو وقت نہیں دے پاتا تھا۔ میں نے بچوں کی پرورش کے لئے ٹیکسی بھی چلائی“

یہ الفاظ ہیں انگلینڈ کے کھلاڑی معین علی کے والد منیر علی کے۔ معین علی اگرچہ انگلینڈ کےکھلاڑی ہیں لیکن ان کے خاندان کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے۔ اسی وجہ سے وہ اور ان کا خاندان آج بھی پاکستان سے جڑے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں انگلینڈ ٹیم کے پاکستان آنے سے لوگوں کی توجہ معین علی کی جانب ہوئی جنھوں نے ایک بیان میں اپنے آباؤ اجداد کا تعلق پاکستان سے ہونے پر خود کو خوش قسمت کہا۔

بیٹوں کی پرورش کے لئے کیا مشکلات جھیلیں؟

مگر معین کا ایک کامیاب کھلاڑی کے طور پر ابھرنا اتنا آسان نہیں تھا۔ حال ہی میں ان کے والد نے بی بی سی کو انٹروہو دیتے ہوئے ان کٹھنائیوں کا ذکر کیا جن سے گزر کر انھوں نے اپنے بیٹوں کی پرورش کی۔

کھانا کھانے کے پیسے نہیں تھے

منیر علی نے کہا “ایک دن ایسا بھی تھا کہ میں بھوکا تھا۔ میرے دوسرے بیٹے قدیر علی کا میچ تھا۔ میرے پاس بہت تھوڑے پیسے تھے جس سے مجھے پیٹرول بھی ڈلوانا تھا۔ پھر میں نے ایک چپس کا پیکٹ خریدا اور میں نے اور قدیر نے اسے مل کر کھایا۔ میں نے مرغیوں کا گوشت بھی گھر گھر جا کر بیچا“

ایک بیٹے کو انٹرنیشنل کھلاڑی بناؤں گا

منیر علی کا کہنا تھا کہ کرکٹ تو ان کے چاروں بیٹے اور ایک بھتیجا بھی کھیلتا تھا۔ مگر باقاعدہ کرکٹ قدیر علی اور معین علی نے کھیلی۔ معین کو دیکھ کر وہ کہتے تھے کہ ایک بیٹے کو تو انٹرنیشنل کھلاڑی بناؤں گا۔

دل کا دورہ

منیر علی نے اپنے بیٹوں کی کرکٹ سے اپنا لگاؤ کے متعلق ایک واقعہ سنایا۔ ایک دن وہ بیٹے کو اسکول لے کر جارہے تھے تو انھیں دل کا دورہ پڑا اور اگلے سات دن انھیں اسپتال میں رہنا پڑا لیکن ان کا دل بیٹوں کے میچ میں لگا ہوا تھا، گھر واپس آتے ہی وہ بیٹے کا میچ دیکھنے چلے گئے۔ جب مہمان ان سے ملنے آئے تو انھیں پتا چلا کہ گھر میں تو کوئی ہے ہی نہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US