سپریم کورٹ نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے خلاف زمین قبضہ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔
سپریم کورٹ نے سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کی اِن چیمبر کارروائیوں کوغیرقانونی قرار دے دیا ہے۔فیض حمید کے خلاف زمین قبضہ کیس میں تین رکنی بینچ کی جانب سے منگل کو جاری کیے گئے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’ہیومن رائٹس سیل میں آئی درخواستوں پر چیمبر میں ہونے والی سماعت کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔‘عدالت عظمیٰ کے تفصیلی فیصلے میں جسٹس اطہر من اللہ کا دو صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ بھی شامل ہے۔ سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار ایچ آر سیل کی درخواستوں کو رجسٹر کرکے سماعت کے لیے مقرر کرنے کے ہی مجاز تھے۔’پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے بعد چیف جسٹس کا یہ اختیار بھی ختم ہوچکا ہے اور نئے قانون کے تحت تین ججز پر مشتمل کمیٹی ہی بنیادی حقوق کی درخواستوں کے حوالے سے فیصلے کی مجاز ہے۔‘جسٹس اطہر من اللہ نے دو صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ لکھتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ میں ایچ آر سیل 2005 سے کام کر رہا ہے۔ دوران سماعت بتایا گیا سپریم کورٹ میں قائم کردہ انسانی حقوق سیل قانون کے مطابق نہیں جبکہ چیف جسٹس کی جانب سے چیمبر میں دیے گئے احکامات، اقدامات بھی کسی قانون کے مطابق نہیں ہیں۔سپریم کورٹ کے انسانی حقوق کے جاری کردہ خطوط سے عدالتی احکامات ہونے کا غلط تاثر پیدا ہوتا ہے۔ چیف جسٹس کی جانب سے فریقین کو چیمبر یا میٹنگ رُوم میں بلانا شفاف ٹرائل کے منافی ہے۔یاد رہے کہ عدالت عظمیٰ نے فیض حمید کے خلاف زمین پر مبینہ قبضے کے حوالے سے دائر درخواست نمٹاتے ہوئے ریمارکس دیے تھے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی اور ان کے معاونین کے خلاف شکایات کے ازالے کے لیے وزارت دفاع سمیت متعلقہ فورم سے رجوع کریں۔جمعرات کے روز کی گئی سماعت میں سپریم کورٹ نے سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کے دور میں انسانی حقوق کے کیسز کی ان چیمبر سماعت کو بھی غیرقانونی قرار دیا تھا۔عدالت عظمیٰ میں فیض حمید کے خلاف زمین پر مبینہ قبضے کے الزام میں انسانی حقوق کیس کی سماعت کے دوران درخواست گزار معیز احمد پیش ہوئے تھے۔ انہوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ 2017 میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی کے حکم پر ان کی رہائش گاہ اور پر دفتر پر چھاپہ مارا کیا گیا۔معیز احمد نے الزام لگایا تھا کہ فیض حمید کی جانب سے اس غیر قانونی کارروائی کا مقصد ان کی ہاوسنگ سوسائٹی کا قبضہ حاصل کرنا تھا۔