افغانستان نے پاکستان کے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ کراچی کی بندرگاہ پر پھنسے ہوئے ان کے کنٹینرز کو جانے کی اجازت دے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق درآمدی سامان سے لدے یہ کینٹینرز اس وقت سے بندرگاہ پر کھڑے ہیں ، جب پاکستان نے تجارتی سامان کی راہداری دینے کا عمل روک دیا تھا۔دوسری جانب پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اس کی بندرگاہوں سے افغانستان میں ڈیوٹی فری سامان جاتا ہے اور پھر وہاں سے واپس پاکستان سمگل ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کو ٹیکس کی مد میں لاکھوں ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔افغانستان کے وزیر برائے صنعت و انڈسٹری نورالدین عزیزی نے منگل کو پاکستان کے نگراں وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی سے ملاقات میں یہ معاملہ اٹھایا۔پاکستان میں افغانستان کے سفارت خانے سے جاری بیان کے مطابق اس ملاقات میں ’دونوں ممالک کو درپیش ٹرانزٹ کے مسائل اور چینلجز‘ پر بات چیت ہوئی۔پشاور میں افغان قونصل خانے کے ایک عہدے دار نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’کئی ماہ اسے ہمارے سینکڑوں کینٹینرز بندرگاہ پر کھڑے ہیں جبکہ کچھ کو وہاں ایک سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔‘انہوں نے کہا کہ’ ان کینٹینرز میں موجود سامان خراب ہو رہا ہے جس کی وجہ سے تاجروں کو نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔‘اگست 2021 میں افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تنازع ان کئی دیگر مسائل میں سے ایک ہے۔گزشتہ ماہ پاکستان نے لاکھوں غیرقانونی طور پر مقیم افغان تارکین وطن کو واپس جانے کا حکم دیا تھا اور بہت سوں کو ملک بدری کا سامنا کرنا پڑا تھا۔پاکستانی حکام نے منگل کو بتایا کہ یکم نومبر سے اب تین لاکھ سے زیادہ افغان رضاکارانہ طور پر ملک سے جا چکے ہیں لیکن افغانستان کے طالبان حکام کا اصرار ہے کہ تارکین وطن کی اکثریت کو زبردستی واپس بھیجا گیا ہے۔پاکستان نے کہا کہ اس نے تارکین وطن کی واپسی کے عمل کو تیز کرنے میں مدد کے لیے پانچ نئے سرحدی کراسنگ پوائنٹس کھولے ہیں۔