لاہور کار حادثہ، ڈرائیور افنان شفقت پانچ روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

image

لاہور کے علاقے ڈیفنس میں 11 نومبر کو پیش آںے والے کار حادثے کے ملزم ڈرائیور افنان شفقت کو عدالت نے پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

سنیچر کو لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے کیس کی سماعت کے بعد یہ حکم دیا ہے۔

گزشتہ ہفتے افنان شفقت کی گاڑی کی ٹکر سے ایک ہی خاندان کے چھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ٹریفک پولیس نے کم عمر ڈرائیور افنان شفقت اعوان کو موقعے پر ہی گرفتار کر لیا تھا جبکہ زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔

ٹریفک پولیس ترجمان رانا عامر نے اُردو نیوز کو بتایا  تھا کہ یہ واقعہ ڈیفنس فیز 7 میں رات گئے پیش آیا جس میں چھ افراد جان کی بازی ہار گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ کم عمر ڈرائیور کو گرفتار کر کے گاڑی تحویل میں لے لی ہے اور ملزم نے اعترافی بیان بھی جاری کیا ہے۔

عدالت کی کارروائیسنیچر کو پولیس نے ڈرائیور افنان شفقت کو کینٹ کچہری میں پیش کیا۔ پھر جوڈیشنل مجسٹریٹ کی اجازت کے بعد ملزم کو انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا۔

عدالت میں پولیس کا موقف تھا کہ ’ ملزم کے خلاف مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات شامل کردیں ہیں۔ ملزم سے تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔‘

اس پر عدالت کا استفسار کیا کہ ’کیا اس سے پہلے جوڈیشل مجسٹریٹ نے جسمانی ریمانڈ دیا تھا۔‘ جس پر مدعی کے وکیل نے کہا کہ پولیس نے پہلے ریمانڈ مانگا ہی نہیں تھا۔ ملزم سے ابھی کچھ ریکور نہیں ہوا، اسے جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔‘

اس دوران ملزم افنان کے وکیل نے کہا کہ ’فیئر ٹرائل ہر شہری کا حق ہے۔ ہم کہہ رہے ہیں کہ یہ حادثہ افسوسناک ہے۔ جن گاڑیوں میں ٹکر ہوئی وہ پولیس کے پاس ہیں۔‘

ملزم کے وکیل نے کہا کہ ’حادثے کے بعد ملزم کو تین دن تک غیرقانونی طور پر حراست میں رکھا گیا۔ ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ واقعہ ملزم کی لاپروائی کے نتیجے میں ہوا۔‘

عدالت نے دوران سماعت کیا کہ ’یہ افنان شفقت ہے کون، ذرا سامنے لائیں۔‘

ملزم کے وکیل نے استدعا کی کہ ’ملزم کی عمر 17 برس ہے۔ اس کے خلاف جو دفعات بنتی ہیں وہ لگائی جائیں۔ اس کا ٹرائل جیونائل کورٹ کے تحت ہوسکتا ہے۔‘

اس کے بعد عدالت نے ملزم افنان شفقت کو پانچ روزہ جسمانی پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

 


News Source   News Source Text

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US