آئینی عدالت کے اس فیصلے کے بعد خاتون وزیر اعظم پیتھونتھان شینواتھ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے جبکہ اُن کی کابینہ کو تحلیل کر دیا گیا ہے۔ ملک میں نئے وزیر اعظم کے انتخاب سے قبل اب موجودہ نائب وزیر اعظم عبوری طور پر اس عہدے کی باگ دوڑ سنبھالیں گے۔
38 سالہ پیتھونتھان شینواتھ تھائی لینڈ کی اب تک کی سب سے کم عمر وزیر اعظم تھیںتھائی لینڈ کی آئینی عدالت نے ملک کی وزیر اعظم پیتھونتھان شینواتھ کو اُن کے عہدے سے برطرف کرنے کا فیصلہ سُناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ وزیر اعظم کمبوڈیا کے سابق رہنما ہان سین کے ساتھ لیک ہونے والی اپنی ٹیلیفونک گفتگوکے وزیراعظم سے متوقع اخلاقی معیارات کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی ہیں۔
آئینی عدالت کے اس فیصلے کے بعد خاتون وزیر اعظم پیتھونتھان شینواتھ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے جبکہ اُن کی کابینہ کو تحلیل کر دیا گیا ہے۔ ملک میں نئے وزیر اعظم کے انتخاب سے قبل اب موجودہ نائب وزیر اعظم عبوری طور پر اس عہدے کی باگ دوڑ سنبھالیں گے۔
یاد رہے کہ گذشتہ ماہ تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں سرحدی جھڑپیں ہوئی تھیں جس میں کئی افراد ہلاک ہوئے تھے اور ان جھڑپوں سے ایک ماہ قبل تھائی لینڈ کی وزیر اعظم پیتھونتھان شینواتھ نے کمبوڈیا کے رہنما ہان سین سے فون پر بات کی تھی، جو بعدازاں لیک ہو گئی تھی۔ اس ٹیلیفونک گفتگو میں پیتھونتھان شینواتھ نے ہان سین کو 'انکل' کہہ کر پکارا تھا اور اپنے ملک کی فوج، بالخصوص ایک فوجی جرنیل پر تنقید کی تھی۔
پیتھونتھان شینواتھ تھائی لینڈ کی ایسی پانچویں وزیر اعظم بن گئی ہیں جنھیں گذشتہ 20 سال سے بھی کم عرصے میں آئینی عدالت کے فیصلوں کے نتیجے میں عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔
اس معاملے کا مرکز پیتھونتھان شینواتھ کی جانب سے کمبوڈیا کے سابق رہنما ہان سین کو جون 2025 میں کی گئی ایک متنازع فون کال ہے۔ یہ فون کال اُس وقت کی گئی تھی جب تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں کشیدگی حد سے زیادہ بڑھ چکی تھی اور اس کال کے چند ہی ہفتوں بعد دونوں ممالک کی افواج نے ایک دوسرے پر فضائی اور سرحدی حملے کیے تھے۔
اس متنازع فون کال میںپیتھونتھان شینواتھ نے کمبوڈیا کے رہنما ہان سین کو 'انکل' کہہ کر پکارا، اور تھائی لینڈ کے فوجی جنرنیلوں پر تنقید کی تھی۔ انھوں نے اپنے ملک کے فوجی کمانڈروں کو کوئی اہمیت نہ دیتے ہوئے اُن کے بارے میں گفتگو کی۔
لیک ہونے والی اس فون کال میںپیتھونتھان شینواتھ نے ہان سین سے یہ وعدہ بھی کیا کہ وہ اُن کی ضروریات کا خیال رکھیں گی۔
ناقدین نے اُن پر الزام لگایا کہ وہ تھائی لینڈ کی طاقتور فوج کو کمزور کر رہی ہے اور ہان سین کے لیے اُن کی جانب سے واضح احترام کے اظہار پر بھی اعتراض کیا۔ یہ معاملہ سامنے آنے کے بعد پیتھونتھان شینواتھ کو معطل کر دیا تھا اور آج انھیں ان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے۔
تھائی لینڈ کے درجنوں اراکین پارلیمان نے انھیں وزارت عظمی کے عہدے سے ہٹانے کے لیے آئینی عدالت میں درخواست دائر کی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ انھوں نے بطور وزیر اعظم اخلاقی معیارات کی خلاف ورزی کی ہے۔
آئینی عدالت نے پیتھونتھان شینواتھ کے خلاف فیصلہ سُناتے ہوئے قرار دیا کہ اُن کی متنازع فون کال اخلاقی معیارات کی خلاف ورزی پر مبنی تھی چنانچہ انھیں ان کے عہدے سے برطرف کیا جاتا ہے۔
پیتھونتھان شینواتھ نے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'تھائی لینڈ کے شہری کے طور پر میں ملک کے ساتھ اپنے مخلص ہونے کا یقین دلاتی ہوں۔'
اس معاملے کا مرکز پیتھونتھان شینواتھ کی جانب سے کمبوڈیا کے سابق رہنما ہان سین کو جون 2025 میں کی گئی ایک متنازع فون کال ہےپیتھونتھان شینواتھ کون ہیں؟
پیتھونتھان شینواتھ تھائی لینڈ کی اب تک کی سب سے کم عمر وزیر اعظم تھیں۔ جب انھوں نے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالا تو اُس وقت اُن کی عمر صرف 37 برس تھی۔ وہ تھائی لینڈ کی دوسری خاتون وزیر اعظم تھیں۔ اُن کی پھوپھی ینگلک شینواتھ کو تھائی لینڈ کی پہلی خاتون وزیر اعظم ہونے کا اعزاز حاصل ہے، وہ سنہ 2011 سے سنہ 2014 تک ملک کے وزیر اعظم کے منصب پر فائز رہی تھیں۔
پیتھونتھان شینواتھ کے والد تھاکس شینواتھ، جو کہ ایک ارب پتی شخصیت ہیں، بھی تھائی لینڈ کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ پیتھونتھان نے ابتدائی تعلیم تھائی لینڈ کے ایلیٹ سکولوں سے حاصل کی جس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے وہ برطانیہ چلی گئیں جہاں انھوں نے سرے کی ایک یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔
اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد پیتھونتھان اپنے خاندانی کاروبار سے منسلک ہوئیں اور اپنے خاندان کی ملکیت میں چلنے والے معروف رینڈے ہوٹل میں بطور اعلیٰ عہدیدار کام کیا۔
تھائی لینڈ میں انھیں اُن کے عرفی نام 'اُنگ اِنگ' سے جانا جاتا ہے۔ انھوں نے اپنی سیاست کا باقاعدہ آغاز سنہ 2021 میں پیہو تھائی پارٹی میں شمولیت سے کیا۔ دو سال ہی کے عرصے میں انھیں اس پارٹی کے سینیئر لیڈر کے طور پر نامزد کر دیا گیا۔
گذشتہ سال، تھائی لینڈ کی پارلیمان نے انھیں اس وقت وزیر اعظم منتخب کیا جب اُن کے پیشرو وزیر اعظم سٹریتھا تھاوسین کو ملک کی آئینی عدالت نے کابینہ میں تقرریوں کے قواعد کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دینے ہوئے نااہل قرار دے دیا تھا۔
شینواتھ خاندان تھائی لینڈ کی سیاست پر گذشتہ کئی دہائیوں سے حاوی ہے اور ابپیتھونتھان شینواتھکی برطرفی کو اس خاندان کی سیاست کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
پیتھونتھان شینواتھ کے والد تھاکسن شینواتھ ایک معروف کاروباری شخصیت ہیں اور ٹیلکو کمپنی کے مالک ہیں۔ تھاکس شینواتھ سنہ 2011 میں تھائی لینڈ کے دیہی علاقوں کے ووٹرز اور ملک کی کارروباری برادری کی سپورٹ سے سنہ 2001 میں ملک کے وزیر اعظم بنے تھے۔
پیتھونتھان شینواتھ اپنے والد کے ہمراہ، جو ماضی میں تھائی لینڈ کے وزیر اعظم رہ چکے ہیںوہ ملکی تاریخ کے پہلے رہنما تھے جنھوں نے پوری مدت کے لیے منتخب حکومت کی سربراہی کی۔ سنہ 2006 میں تھائی لینڈ کی فوج نے ایک بغاوت کے ذریعے تھاکسن کی حکومت کو برطرف کر دیا اور بلآخر سنہ 2008 میں انھوں نے خودساختہ جلاوطنی اختیار کر لی۔
سنہ 2011 میں اس خاندان نے ینگلک شینواتھ کو آگے کیا جو سابق وزیر اعظمتھاکسن شینواتھ کی بہن اورپیتھونتھان شینواتھ کی پھوپھی ہیں۔
سنہ 2011 میں ہونے والے انتخابات میںینگلک شینواتھ بھاری اکثریت سے جیت گئیں مگر بعدازاں ملک کی آئینی عدالت نے انھیں وزارت عظمیٰ کے عہدے سے برطرف کر دیا۔ ان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انھوں نے غیرقانونی طور پر ملک کے قومی سلامتی کے سربراہ کو ان کے عہدے سے ٹرانسفر کیا تھا۔
ملک کو تین وزیر اعظم دینے والے تھائی لینڈ کے شینواتھ خاندان کے ملک کی فوج سے تعلقات اُتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ فوج نےبغاوتوں کے ذریعے شینواتھ خاندان سے منسلک دو وزرائے اعظم کو ان کے عہدوں سے برطرف کیا۔ تاہم ماضی میں یہ خاندان فوج کے ساتھ مل کر اتحاد بھی قائم کرتا رہا ہے۔