سعودی عرب میں خواتین کی کرکٹ لیگ اور ہزاروں پاؤنڈ تنخواہیں مگر بعض غیر ملکی کھلاڑی مخمصے میں

بی بی سی سپورٹ کے مطابق انگلینڈ، آسٹریلیا اور انڈیا سمیت مختلف ممالک کی بہترین کھلاڑیوں پر مشتمل چھ ٹیموں کا ایونٹ ہو گا جسے ’ویمنز ورلڈ ٹی20 چیلنج‘ کہا جا رہا ہے۔ ٹاپ کھلاڑیوں کو تقریباً وہی آمدنی ملے گی جو وہ ’دی ہنڈریڈ‘ اور ڈبلیو بی بی ایل میں کماتی ہیں۔
خواتین، کرکٹ
Getty Images

سعودی عرب آئندہ سال دنیا کی معروف خواتین کرکٹرز کے ساتھ ایک ٹی ٹوئنٹی لیگ کا انعقاد کرنے جا رہا ہے۔

بی بی سی سپورٹ کے مطابق انگلینڈ، آسٹریلیا اور انڈیا سمیت مختلف ممالک کی بہترین کھلاڑیوں پر مشتمل چھ ٹیموں کے اس ایونٹ کو ’ویمنز ورلڈ ٹی ٹوئنٹی چیلنج‘ کا نام دیا گیا ہے۔

افتتاحی ٹورنامنٹ دو ہفتوں پر محیط ہوگا۔ امکان ہے کہ یہ ستمبر یا اکتوبر میں منعقد ہو گا۔

آئی سی سی کے منظور شدہ اس ٹورنامنٹ کو سعودی عرب کرکٹ فیڈریشن کی نگرانی میں چلایا جائے گا جس نے اس کے انتظام کے لیے فیئر بریک گلوبل کے ساتھ ایک سٹریٹیجک معاہدہ کیا ہے۔

فیئر بریک ایک نجی کمپنی ہے جو 2013 میں قائم ہوئی تھی اور کھیلوں میں صنفی مساوات بہتر بنانے پر کام کرتی ہے۔

کمپنی نے بی بی سی سپورٹ کو بتایا کہ یہ ٹورنامنٹ ’دنیا بھر میں خواتین کی کرکٹ کے لیے واقعی ایک اہم قدم‘ ہے۔

کمپنی نے کہا کہ ’یہ کسی بامقصد چیز کے حصول کے لیے ہے جس کی عالمی اہمیت بھی ہے۔‘

’یہ لوگوں کو مواقع فراہم کرنے کے بارے میں ہے، قطع نظر اس سے کہ وہ کون ہیں اور کس پس منظر سے آتے ہیں۔‘

سعودی عرب میں خواتین کا کرکٹ ٹورنامنٹ کچھ کھلاڑیوں کے لیے اخلاقی مخمصہ بھی پیدا کر سکتا ہے کیونکہ ملک میں خواتین کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے اور وہاں ہم جنس پرستی غیر قانونی ہے۔

معاہدے کے تحت یہ ٹورنامنٹ پانچ سال تک اسی مشرقِ وسطیٰ کے ملک میں منعقد ہوگا اور اسے بین الاقوامی کیلنڈر میں مستقل جگہ ملے گی۔

سعودی عرب کی خواتین ٹیم نے اب تک صرف پانچ ٹی20 میچ کھیلے ہیں وہ بھی مارچ 2022 میں جس کی وجہ سے ان کی آئی سی سی رینکنگ موجود نہیں، جبکہ مردوں کی ٹیم اس وقت 32ویں نمبر پر ہے
Getty Images
سعودی عرب کی خواتین ٹیم نے اب تک صرف پانچ ٹی20 میچ کھیلے ہیں وہ بھی مارچ 2022 میں جس کی وجہ سے ان کی آئی سی سی رینکنگ موجود نہیں، جبکہ مردوں کی ٹیم اس وقت 32ویں نمبر پر ہے

کھلاڑیوں کو کتنی آمدن ہو گی؟

فیئر بریک نے 2022 اور 2023 میں دبئی اور ہانگ کانگ میں ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹس کرائے تھے جن میں انگلینڈ کی ہیڈر نائٹ اور صوفی ایکلیسٹون سمیت دنیا بھر کی کھلاڑیوں نے شرکت کی۔ ان مقابلوں میں برازیل، نیپال، روانڈا، پاپوا نیو گنی اور جرمنی جیسے ممالک کی کرکٹرز بھی شامل تھیں۔

فیئر بریک کی سابق سی ای او شیریل راجرز نے اگست 2025 میں رخصتی سے پہلے ویمنز ورلڈ ٹی ٹوئنٹی چیلنج کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

منتظمین کے مطابق 2026 کے ایونٹ میں 35 سے زائد ممالک کی نمائندگی متوقع ہے اور فل ممبر اور ایسوسی ایٹ ممالک کی کھلاڑیوں کی تعداد بھی تقریباً برابر ہوگی۔

ٹیموں کی تشکیل نیلامی کے بجائے سلیکشن پینل کرے گا۔ چھ ٹیمیں ہوں گی، ہر ایک میں 15 کھلاڑی، اور ٹورنامنٹ میں 19 میچ ہوں گے جن میں لیگ راؤنڈ، دو سیمی فائنلز اور فائنل شامل ہوگا۔

تنخواہوں کا نظام ابھی طے نہیں لیکن تین یا چار تنخواہی درجے متوقع ہیں۔

بی بی سی سپورٹ کے مطابق ٹاپ کھلاڑیوں کو تقریباً وہی آمدنی ملے گی جو وہ ’دی ہنڈریڈ‘ اور ڈبلیو بی بی ایل میں کماتی ہیں۔ تاہم یہ ادائیگیاں ٹورنامنٹ کے کم دورانیے کے مطابق ہوں گی۔

’دی ہنڈریڈ‘ میں ٹاپ تنخواہ 2025 میں 65 ہزار پاؤنڈ تھی جو 2026 میں بڑھ کر ایک لاکھ پاؤنڈ ہو جائے گی جبکہڈبلیو بی بی ایل میں بہترین کھلاڑی 54 ہزار پاؤنڈ کماتی ہیں۔

یہ رقم اب بھی انڈیا کی ویمنز پریمیئر لیگ سے کم ہے جہاں نیٹ سکیور-برنٹ نے پچھلے سال تین لاکھ 20 ہزار پاؤنڈ کمائے تھے۔

سعودی ایونٹ میں درمیانی اور کم درجے کی تنخواہیں تین ہزار آٹھ سو پاؤنڈ سے 15 ہزار پاؤنڈ ہوں گی جو ایسوسی ایٹ ممالک کی کھلاڑیوں کے لیے خاصی اہم ہیں۔

انگلینڈ کی کوئی بھی کھلاڑی شرکت کرنا چاہے تو انھیں این او سی درکار ہوگا۔

مردوں کی کرکٹ میں این او سی تنازعات کا سبب بنتے رہے ہیں لیکن خواتین کرکٹ میں ٹی ٹوئنٹی لیگز کم ہونے کے باعث یہ مسئلہ بننے کا امکان کم ہے۔

England captain Nat Sciver-Brunt and India counterpart Harmanpreet Kaur shake hands before a women's T20 international
Getty Images
انگلینڈ کی کپتان نیٹ سکیور برنٹ اور انڈین ہرمن پریت کور ان کھلاڑیوں میں شامل ہیں جن سے خواتین کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی چیلنج میں کھیلنے کے لیے رابطہ کیا گیا

’کرکٹ کو سعودی عرب کا ایک بڑا کھیل بنایا جائے‘

سعودی عرب میں خواتین کی ٹی ٹوئنٹی لیگ کے انعقاد کا امکان ملک کی حالیہ برسوں میں بڑھتی ہوئی سپورٹس سرمایہ کاری کا سلسلہ ہے جس نے عالمی سطح پر نمایاں اثر ڈالا ہے۔

سعودی عرب 2003 سے آئی سی سی کا رکن ہے اور اس کی کرکٹ فیڈریشن کے سربراہ شہزادہ سعود بن مشعل آل سعود ہیں، جو اس کے صدر اور چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

خلیجی ریاست سٹریٹیجک معاہدوں اور بڑی سپانسرشپس کے ذریعے پہلے ہی کرکٹ میں اپنی موجودگی مضبوط کر چکی ہے اور شہزادہ سعود نے گذشتہ سال کہا تھا کہ ہدف ہے کہ ’کرکٹ کو سعودی عرب کا ایک بڑا کھیل بنایا جائے۔‘

سعودی کرکٹ فیڈریشن نے ستمبر میں یو اے ای کی انٹرنیشنل لیگ کے ساتھ معاہدہ کیا جس سے اب آئی ایل ٹی ٹوئنٹی لیگ کے میچز سعودی عرب میں بھی ہو سکیں گے۔

مئی 2024 میں آئی سی سی نے آرامکو کے ساتھ 2027 تک عالمی شراکت داری کا اعلان کیا، یعنی پہلے 18 ماہ کی مدت کو توسیع دی گئی۔

انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں بھی آرامکو اور وزٹ سعودی سپانسرز میں شامل ہیں اور 2025 کی نیلامی جدہ میں ہوئی تھی۔

اطلاعات ہیں کہ سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (پی آئی ایف) کے حکام ایک بڑی مردوں کی ٹی ٹوئنٹی لیگ میں تقریباً 390 ملین پاؤنڈز سرمایہ کاری کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

بعض کھلاڑیوں کے لیے اخلاقی الجھن

دارالحکومت ریاض میں ایک نئے سٹیڈیم کی تعمیر جاری ہے جبکہ جدہ اور ينبع میں مزید گراؤنڈز کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

فیئر بریک کے مطابق وینیوز پر خواتین کے لیے خصوصی جگہوں اور نماز کے کمروں کا انتظام بھی کیا جائے گا۔

اسے امید ہے کہ یہ ٹورنامنٹ ’سعودی خواتین کے لیے کھیل میں شرکت کے نئے مواقع پیدا کرے گا‘ اور مقامی کھلاڑیوں، آفیشلز اور منتظمین کے لیے ’عالمی کرکٹ تک رسائی کے راستے مضبوط کرے گا۔‘

ان کا ماننا ہے کہ یہ خواتین کے لیے عالمی سطح کے ٹورنامنٹس کی کمی کو بھی پورا کرے گا۔

فیئر بریک نے کہا: ’دنیا میں کوئی اور کرکٹ ٹورنامنٹ اتنے زیادہ ممالک کی کھلاڑیوں کو ایک ساتھ کھیلنے کا موقع نہیں دیتا۔‘

سعودی عرب کے ’ویژن 2030‘ پروگرام میں کھیلوں کی معیشت کو بھی کلیدی کردار حاصل ہے۔

سعودی کرکٹ حکام نے کہا: ’یہ سنگ میل ملک کے پہلے پروفیشنل خواتین کرکٹ ایونٹ کی شروعات ہے، جو کھیل کی ترقی، خواتین کے بااختیار بنانے، اور بین الاقوامی تعاون کے نئے راستے کھولتا ہے۔‘

تاہم کھیلوں میں سعودی عرب کی بڑھتی ہوئی شمولیت تنازع سے خالی نہیں۔

ناقدین کے مطابق کھیلوں میں سرمایہ کاری ملک کی انسانی حقوق کی صورتِ حال اور ماحولیاتی اثرات سے توجہ ہٹانے کے لیے کی جا رہی ہے جسے ’سپورٹس واشنگ‘ کہا جاتا ہے۔

سعودی عرب میں خواتین کا کرکٹ ایونٹ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ملک میں ہم جنس پرست تعلقات غیر قانونی ہیں۔ یہ ہم جنس پرست کھلاڑیوں اور ان کی حمایت کرنے والوں کے لیے اخلاقی الجھن کا باعث بن سکتا ہے۔

لیگ کی منصوبہ بندی کے دوران مختلف مسائل پر خدشات دور کرنے کے لیے مشاورت کی گئی، جن میں ہم جنس تعلق رکھنے والی کھلاڑیوں کے معاملات بھی شامل تھے۔

اس حوالے سے سابق اور موجودہ بین الاقوامی کرکٹرز اور سعودی عرب میں خواتین کھیلوں سے وابستہ شخصیات جن میں جوڈی مرے بھی شامل ہیں، جو وہاں ٹینس کو فروغ دے رہی ہیں، سے رائے لی گئی۔

وزٹ سعودی، جو ملک کا سرکاری ٹورزم پروگرام ہے، کا کہنا ہے کہ تمام وزٹرز کو ویلکم کیا جاتا ہے، انھیں ذاتی معلومات ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں اور ان کی پرائیویسی کا احترام کیا جائے گا۔

سپورٹس واشنگ کیا ہے؟

پہلی مرتبہ 2015 میں سپورٹس واشنگ کی اصطلاح آذربائیجان کے لیے استعمال کی گئی تھی۔ آذربائیجان تیل کی دولت سے مالا مال ہے لیکن اس کا انسانی حقوق کا ریکارڈ اچھا نہیں ہے۔

آذربائیجان نے 2015 میں لالیگا کپ کی ٹیم ایٹلیٹیکو میڈرڈ کو سپانسر کیا جس کے بعد سپورٹس واشنگ کی اصطلاح کا استعمال ہونے لگا۔

آذربائیجان نے اولمپکس آف یورپ یعنی یورپیئن گیمز کے انعقاد کے لیے رقم خرچ کی اور اس کا پہلا ایونٹ باکو میں ہوا۔ اس کے ایک سال بعد باکو کی گلیوں میں یورپیئن گرینڈ پری کا انعقاد کیا گیا۔

باکو نے یوروپا کپ کا فائنل کرانے کی پیشکش کی اور 2019 میں یوروپا لیگ کا فائنل باکو میں ہوا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب بھی سرچ انجن پر ’ایف ون‘ یا ایتھلیٹکس سرچ کریں تو آذربائیجان فوراً سامنے آتا ہے اور اس طرح ان کا انسانی حقوق کے بارے میں ریکارڈ سرچ انجن میں نیچے چلا جاتا ہے۔

اس پوری مہم کے منصوبہ سازوں کا مقصد یہ پیغام دینا ہوتا ہے کہ جہاں اتنے بڑے ایونٹس کا انعقاد ہو رہا ہے اس ملک میں ساری چیزیں خراب تو نہیں ہوں گی۔

’یہ دیکھو یہ جمناسٹ، فٹبالر، تیراک وہاں اتنے مزے کر رہے ہیں۔‘

سپورٹس واشنگ کی اصطلاح تو شاید نئی ہو لیکن یہ طریقہ کار پرانا ہے۔ جب جنوبی افریقہ میں نسل پرستانہ پالیسیوں کی وجہ سے اسے سفارتی تنہائی کا سامنا تھا، تو وہ بھی کھیلوں کے بڑے مقابلے کرانے کی کوشش کرتے تھے۔ 1980 میں جنوبی افریقہ میں ہونے والی گرینڈ پری پر بہت تنازعہ ہوا۔

سعودی عرب میں پہلے بار 2019 میں بڑھے مقابلوں کے انعقاد کے موقعے پر یہ اصطلاح استعمال ہوئی جب ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ سعودی عرب اپنے برے انسانی حقوق کے ریکارڈ سے توجہ ہٹانے کے لیے سپورٹس واشنگ کر رہا ہے۔

اس وقت بھی ایمنٹسی انٹرنیشنل نے سعودی عرب کے انسانی حقوق کے برے ریکارڈ کی طرف توجہ دلائی تھی اوراظہار رائے پر پابندیوں، خواتین کے حقوق غصب کرنے اور ایسے جرائم پر موت کی سزا دینے کی طرف توجہ دلائی ہے جو عالمی قوانین کی نظر میں جرم ہی نہیں ہیں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US