فلم دھورندھر پر میجر موہت اور چوہدری اسلم کے خاندانوں کو اعتراض: ’سنجے دت ان کے پسندیدہ اداکار تھے‘

بالی وڈ میں بڑے بجٹ سے تیار کردہ فلم ’دھورندھر‘ بظاہر انڈیا اور پاکستان کے درمیان تنازعات پر مبنی ہے جبکہ اس کے ٹریلر میں پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کا علاقہ لیاری دکھایا گیا ہے۔ مگر فلم میں دکھائے گئے بعض کردار جن حقیقی شخصیات پر مبنی ہیں، ان کے خاندانوں نے ناراضی ظاہر کی ہے۔

بالی وڈ میں بڑے بجٹ سے تیار کردہ فلم ’دھورندھر‘ بظاہر انڈیا اور پاکستان کے درمیان تنازعات پر مبنی ہے جبکہ اس کے ٹریلر میں پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کا علاقہ لیاری دکھایا گیا ہے۔ مگر فلم میں دکھائے گئے بعض کردار جن حقیقی شخصیات پر مبنی ہیں، ان کے خاندانوں نے ناراضی ظاہر کی ہے۔

ٹریلر سے واضح ہے کہ فلم کی کہانی ’حقیقی واقعات سے متاثرہ‘ ہے اور اس میں انڈر ورلڈ، ایکشن اور جاسوسی کے موضوعات شامل ہیں۔

اگرچہ فلمسازوں نے اس فلم کو کسی حقیقی کردار کی ’بائیو پِک‘ قرار نہیں دیا ہے مگر کہانی میں موجود کچھ کرداروں کے نام تاریخی اہمیت کے حامل ہیں۔ جیسے کراچی کے معروف پولیس افسر چوہدری اسلم اور رحمان ڈکیٹ۔

انڈین میڈیا کی رپورٹس کے مطابق غیر جنگی حالات میں بہادری کا سب سے بڑا ایوارڈ اشوک چکرا پانے والے میجر موہت شرما کے والدین نے دہلی ہائی کورٹ میں پیٹیشن دائر کی ہے کہ فلم ’دھورندھر‘ کو نمائش سے روکا جائے کیونکہ یہ فلم ان کے بیٹے کی زندگی سے متاثرہ ہے اور ان سے اجازت نہیں لی گئی۔

میجر موہت شرما 2009 میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں کپواڑہ سیکٹر میں مارے گئے تھے۔

دوسری طرف فلم کے ڈائریکٹر آدیتہ دھر نے ایکس پر ایک بیان میں وضاحت کی ہے کہ یہ فلم میجر موہت کی زندگی کے بارے میں نہیں ہے۔

انھوں نے لکھا ’ہماری فلم دھورندھر بہادر میجر موہت شرما کی زندگی پر مبنی نہیں ہے۔ یہ ایک سرکاری وضاحت ہے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں، اگر ہم مستقبل میں موہت سر پر سوانح حیات بنائیں گے، تو ہم مکمل رضامندی اور خاندان سے مکمل مشاورت کے ساتھ کریں گے، اور اس انداز میں جو ان کی قوم کے لیے قربانی اور ان کے چھوڑے ہوئے ورثے کو واقعی خراج تحسین پیش کرے گا۔‘

دوسری جانب پاکستان میں سابق انکاؤنٹر سپیشلسٹ کہلانے جانے والے پولیس افسر چوہدری اسلم کی بیوہ نورین اسلم نے فلم کا ٹریلر ریلیز ہونے کے بعد کہا ہے کہ اس میں ان کے شوہر کے لیے استعمال کیے گئے الفاظ ’ناقابل قبول‘ ہیں۔

2014 کے دوران چوہدری اسلم کراچی میں ایک حملے میں مارے گئے تھے۔

آدتیہ دھر اِس سے پہلے سرجیکل سڑائیکٹ، دھوم دھوم، آرٹیکل 370 اور بارہمولا جیسی فلمیں بنا چکے ہیں جو کسی نہ کسی حد تک تنازعات کا شکار رہی ہیں۔

اس بار بھی پانچ دسمبر کو ریلیز ہونے والی فلم دھورندھر کے چند منٹ کے ٹریلر نے ایک بار پھر تنازعات کو جنم دے دیا۔

دھورندھر کی کہانی اور حقیقی کردار

ٹریلر کا آغاز ہی دل دہلا دینے والے مناظر سے ہوتا ہے۔ ارجن رامپال میجر اقبال کا کردار ادا کررہے ہیں جن کو خفیہ ادارے کا ایجنٹ بتایا جاتا ہے۔

آر مادھاون ’اجے سنیال‘ کے کردار میں ہیں جو ایک انڈین انٹیلیجنس ایجنٹ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہمیں پاکستان کے دہشت گردی کے مراکز میں دخل اندازی کرنا ہوگی۔‘

رحمٰن ڈکیت کا کردار اکشے کھنہ ادا کر رہے ہیں۔ ان کا کردار انتہائی ظالم اور بے رحم دکھایا جاتا ہے۔

سنجے دت اس ٹریلر میں چوہدری اسلم کا کردار ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

رنویر سنگھ ایک انڈین جاسوس کے روپ میں نمودار ہوتے ہیں۔ وہ بولتے ہیں کہ ’تم لوگوں کے پٹاخے ختم ہوگئے ہوں تو میں شروع کروں۔‘

مجموعی طور پر ٹریلر نے ایک تاریک، تشدد سے بھرپور اور تشویشناک ماحول کی تصویر بنائی ہے۔ گینگ وار، دہشت گردی، خونی انتقام اور ان تمام عناصر کے بیچ جاسوسی کی مہمات فلم کا محور معلوم ہوتی ہیں۔

چوہدری اسلم خان کو پاکستان کا ایک بہادر پولیس افسر سمجھا جاتا ہے جنھوں نے سندھ پولیس میں 1984 میں شمولیت اختیار کی اور وقت کے ساتھ ترقی حاصل کی۔

انھیں گینگ وار اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں پیش پیش رہنے کے لیے جانا جاتا تھا۔ خاص طور پر کراچی کے لیاری علاقے میں۔ انھوں نے مختلف دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مہمات کی قیادت کی اور لیاری ٹاسک فورس کا حصہ بھی رہے۔

ان کی خدمات کے اعتراف میں انھیں پاکستان پولیس میڈل اور تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا ہے۔

نو جنوری 2014 کو ان کی گاڑی پر بم دھماکہ ہوا جس میں وہ مارے ہو گئے۔ اس کےبعد عوام اور پولیس میں انھیں ’شہیدِ پولیس‘ کا درجہ ملا اور ان کی زندگی پر مبنی فلم اور دستاویزی مواد بھی تیار کیا گیا ہے۔

تاہم انھیں کچھ حلقے انتہائی متنازع بھی قرار دیتے ہیں۔ وجہ جو بھی ہو مگر ابھی بھی کافی مشہور ہیں۔

رحمان ڈکیٹ کا اصل نام عبدالرحمن بلوچ، 1980 میں کراچی کے علاقے لیاری میں پیدا ہوئے۔ وہ لیاری کے طاقتور گینگ وار اور منشیات سمگلنگ کے نیٹ ورک کے سربراہ سمجھے جاتے تھے۔

ان پر اغوا، قتل، بھتہ خوری اور منشیات فروش کے 80 سے زائد مقدمات تھے۔ لیکن بعض مقامی لوگ انھیں غریبوں کا مددگار اور ’رابن ہڈ‘ کے طور پر بھی یاد کرتے تھے۔ نو اگست 2009 کو پولیس مقابلے میں وہ ہلاک ہو گئے۔

چوہدری اسلم رحمان ڈکیٹ کے خلاف سرگرم عمل رہے تھے اور ان کو دو مرتبہ چوہدری اسلم نے گرفتار کیا تھا۔

رحمان ڈکیٹ کے بارے میں کہا گیا تھا کہ ایک حفاظتی ناکے پر ان کی کار کو روکا گیا تو انھوں نے پولیس پر فائرنگ کی تھی۔ جس میں وہ ہلاک ہوگے تھے۔

اس میں چوہدری اسلم خان کا نام بھی لیا گیا تھا۔ مگر کبھی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی تھی۔ جس وقت رحمان ڈکیٹ مارے گے تھے اس وقت چوہدری اسلم اس وقت لیاری کینگ وار کے خلاف سر گرم عمل تھے۔

عدالت نے رحمان ڈکیٹ کے قتل کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا۔

فلم کے ٹریلر میں ہیرو را ایجنٹ کا نام نہیں دکھایا گیا۔ مگر میجر موہت شرما کے والدین کا دعویٰ ہے کہ یہ فلم ان کے بیٹے کی زندگی سے متاثر ہو کر بنائی گئی ہے۔ تاہم فلم ڈائریکٹر نے اس کی تردید کی ہے۔

میجر موہت شرما انڈین فوج کیسپیشل فورسز کے کمانڈو تھے۔ وہ 1999 میں فوج میں شامل ہوئے اور 2003 میں سیپشل فورسمیں منتخب ہوئے۔

انھیں بہادری اور خفیہ مشنز میں شجاعت کی بدولت 2004 میں سینا میڈل سے نوازا گیا۔

21 مارچ 2009 کو کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں آپریشن کے دوران وہ شدید فائرنگ کے باوجود زخمی ساتھیوں کو بچاتے ہوئے خود شدید زخموں کے باعث ہلاک ہو گئے۔ ان کو انڈیا کے سب سے بڑے غیر جنگی بہادری ایوارڈ سے نوازا گیا۔

میجر موہت شرما کی زیادہ تر خدمات انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں تھیں۔

میجر موہت کے خاندان کا اعتراض

انڈین میڈیا کے مطابق میجر موہت شرما کے والدین نے فلم دھورندھر کے خلاف دہلی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔ اس میں وہ فلم کی ریلیز کو فوری طور پر روکنے کی استدعا کر رہے ہیں۔

ان کا موقف ہے کہ فلم کے ٹریلر اور تشہیری مواد سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ میجر موہت شرما کی زندگی اور فوجی مشنز سے متاثرہ ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ فلم سازوں نے نہ تو خاندان کی رضامندی لی اور نہ ہی انڈین فوج کی اجازت حاصل کی۔

والدین نے درخواست میں انڈین فوج، انڈیا کی براڈ کاسٹ کی وزارت، فلم کے ہدایتکار اور پروڈیوسر کو جواب دہندگان کے طور پر شامل کیا ہے اور عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ پہلے خاندان کو فلم دکھائی جائے تاکہ یہ تصدیق ہو سکے کہ کوئی حساس معلومات یا غلط نمائندگی نہ کی گئی ہو۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک ہیرو کی زندگی اور قربانی کو بغیر اجازت کمرشل فلم کے طور پر پیش کرنا ان کے وقار اور قانونی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور حسّاس فوجی آپریشنز کی منظر کشی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

فلم کے مصنف اور ڈائریکٹر نے اپنی وضاحت میں کہا کہ فلم کسی بھی میجر موہت شرما کی زندگی پر مبنی نہیں ہے۔ ’فلم کی کہانی فنکشن ہے اور حقیقتی زندگی سے قریب تر ہونا اتفاقیہ ہوسکتا ہے۔‘

چوہدری اسلم کی بیوہ کی جانب سے بھی قانونی کارروائی کا عندیہ

پاکستان میں چوہدری اسلم کی بیوہ نورین اسلم کہتی ہیں کہ فلم کا جو ٹریلر دیکھا وہ ’دل کو دکھانے والا‘ ہے۔

وہ کہتی ہیں ’دشمنی بھی بہادری سے کی جاتی ہے۔ اگر اب چوہدری اسلم کا نام لے کر فلم بن رہی تھی تو اس کا مطلب ہے کہ چوہدری اسلم نے اپنی زندگی میں ایسے کارنامے ضرور انجام دیے ہیں جن کا چرچا سرحد پار بھی ہوا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’چوہدری اسلم کی والدہ انتہائی پاک باز اور نیک خاتون تھی۔ ان کے والد انتہائی شریف انسان اور کراچی کے مایہ ناز قانون دان تھے۔ جس طرح کے الفاظ فلم کے ٹریلر میں دیکھے ہیں یہ ناقابل قبول ہیں اور میں ان پر انتہائی احتجاج کرتی ہوں اور یہ کہتی ہوں کہ اخلاقیات کا دامن کبھی بھی ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔‘

نورین اسلم کا کہنا تھا کہ چوہدری اسلم نے زندگی میں بڑے بڑے آپریشن کیے ہیں۔ ’وہ کبھی بھی کسی سے خوفزدہ نہیں ہوئے ہیں۔ وہ ہمیشہ جرائم اور ملک دشمنوں کے خلاف سرگرم عمل رہے تھے۔ اس کا اعتراف پاکستان کے ادارے بھی کرتے ہیں۔ آج بھی کہا جاتا ہے کہ دوبارہ چوہدری اسلم جیسا افسر دوبارہ پیدا نہیں ہوا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’چوہدری اسلم بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی بکتا ہے۔ فلم ساز کو بالکل اجازت نہیں ہے کہ وہ چوہدری اسلم کے لواحقیقن سے اجازت لیے بغیر ان کی زندگی پر کوئی فلم بنائے یا کچھ بھی کرے یا ان کو منفی انداز میں دکھائے۔ ٹریلر تو انتہائی افسوسناک ہے۔ اب فلم دیکھ کر فیصلہ کروں گئیں کہ اس کے خلاف قانونی کارروائی کیسے کرنی ہے اور کہاں کرنی ہے۔‘

’سنجے دت اُن کے اور وہ سنجے دت کے پسندیدہ تھے‘

نورین اسلم کہتی ہیں کہ چوہدری اسلم کو سنجے دت کی فلم کھل نائیک بہت پسند تھی۔

’یہ فلم بھی انھوں نے کئی مرتبہ دیکھی تھی بلکہ انھوں نے سنجے دت کی ہر فلم کو دیکھا تھا۔ سنجے دت میرے بھی پسندیدہ اداکار ہیں۔ میں اب بھی نہیں سمجھتی کہ اگر سنجے دت چوہدری اسلم کا کردار ادا کرکے چوہدری اسلم کو منفی روپ میں پیش کررہے ہیں تو اس میں ان کا کوئی قصور ہے بلکہ یہ تو ڈائریکٹر اور مصنف ہیں جو اس طرح منفی حرکتیں کررہے ہیں۔‘

انھوں نے چوہدری اسلم کے الفاظ دہرائے جن میں انھوں نے کہا تھا کہ ’مجھے بتایا گیا ہے کہ سنجے دت کی اصل زندگی میں، میں ان کا ہیرو ہوں۔‘

نورین اسلم کہتی ہیں کہ یہ بات انھوں نے کئی مرتبہ دہرائی تھی۔

وہ کہتی ہیں ’حقیقت یہ تھی کہ ان کی بہادری اور شجاعت کی کہانیاں ان کی زندگی ہی میں بین الاقوامی دنیا میں پہنچ چکی تھیں۔ برطانیہ میں ان کو سُپر کوپ کہا گیا تو امریکہ میں بھی ان کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا گیا اور ان کی یہ شہرت اور حقیقی زندگی کی کہانیاں انڈیا بھی پہنچی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’فلمیں بنانی ہیں ضرور بنائیں۔ مگر ایسے فلمیں بنائیں جو حقیقت پر مبنی ہوں۔ چوہدری اسلم پر پاکستان میں بھی فلم بنی اور باقی دنیا میں بھی بن رہی ہیں مگر جو بظاہر ٹریلر دیکھ کر منفی تاثر پڑوسی ملک کی فلم میں دیا گیا ہے اس سے بہت دکھ ہوا ہے۔‘

اگرچہ میجر موہت سے متعلق سوال پر فلم کے ڈائریکٹر نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ کہانی کا حقیقی زندگی سے تعلق نہیں مگر انھوں نے چوہدری اسلم کے کردار کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US