وفاقی وزیرِ خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان معیشت کو ایک پائیدار، نجی شعبہ، مرکز اور برآمدات پر مبنی ترقی کے ماڈل کی طرف منتقل کرنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے ایک اہم پریس بریفنگ میں برآمدی شعبے سے لیے جانے والے عشروں پرانے ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ سرچارج (EDS) کے خاتمے کو اس سمت میں بڑی پیش رفت قرار دیا۔
وزیر خزانہ کے مطابق وزیراعظم کے وژن کے تحت حکومت نے ایک جامع حکمتِ عملی اختیار کی ہے جس میں نجی شعبے کو قومی اقتصادی لائحہ عمل کے مرکز میں رکھا جا رہا ہے، جبکہ ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ (EDF) کے گورننس ڈھانچے میں وسیع اصلاحات بھی اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے صرف اصلاحات کی منظوری ہی نہیں دی بلکہ نجی شعبے کی تجویز سے بھی آگے بڑھتے ہوئے 1991 سے نافذ 0.25 فیصد سرچارج مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا، جس کی کابینہ منظوری کا عمل جاری ہے۔
سینیٹر اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کی درمیانی مدت کی معاشی حکمتِ عملی استحکام سے پائیدار اور جامع ترقی کی طرف منتقلی پر مبنی ہے، جسے برآمدات، ترسیلاتِ زر، پیداواری صلاحیت میں بہتری اور نجی سرمایہ کاری سے تقویت ملے گی۔
انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں معاشی سرگرمیوں میں نمایاں بہتری دیکھی گئی، سیمنٹ پیداوار میں 16 فیصد اضافہ، کھاد میں 9 فیصد، پیٹرولیم میں 4 فیصد، آٹو سیکٹر میں 31 فیصد، موبائل فون مینوفیکچرنگ میں 26 فیصد جبکہ بڑی صنعتوں کی مجموعی پیداوار (LSM) 4.1 فیصد بڑھ گئی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ برآمدات 5 فیصد بڑھی ہیں جبکہ آئی ٹی برآمدات میں 20 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ انہوں نے اسے ”نیو اکانومی“ کی مضبوط بنیاد قرار دیا، جبکہ ریکوڈک منصوبے کے $3.5 ارب کے مالیاتی انتظام کو پاکستان کی برآمدی صلاحیت کے لیے ”تبدیلی کا نقطۂ آغاز“ کہا، جو مستقبل میں سالانہ تقریباً 3 ارب ڈالر تک کی برآمدات میں معاون ہوگا۔
ترسیلاتِ زر کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال 38 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلات موصول ہوئیں جبکہ رواں سال یہ 41 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کا امکان ہے، جو کرنٹ اکاؤنٹ کو مضبوط سہارا فراہم کریں گی۔
سینیٹر اورنگزیب نے بتایا کہ ٹیکس پالیسی آفس اب باقاعدہ فعال ہو چکا ہے اور مستقبل میں قومی بجٹ سمیت ٹیکس پالیسی سازی کی مکمل ذمہ داری اسی پر ہوگی، تاکہ ایف بی آر نفاذ، کمپلائنس اور ٹیکنالوجی پر توجہ دے سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنشن، قرض، توانائی، ریاستی اداروں کی اصلاحات اور ڈیجیٹل اکانومی پر کام تیزی سے جاری ہے۔
وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ قرضوں کے شعبے میں پاکستان کی مقامی قرض کی سطح پہلی بار 9 سال بعد مستحکم ہوئی ہے جبکہ پالیسی ریٹ میں کمی کے بعد ڈیٹ سروسنگ کے اخراجات بھی نیچے آرہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا پہلا پانڈا بانڈ، ایشیائی ترقیاتی بینک اور اے آئی آئی بی کی کریڈٹ اینہانسمنٹ کی معاونت سے، دسمبر یا چینی نئے سال سے پہلے جاری کر دیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا عمل آئندہ ہفتے شروع ہو رہا ہے، جس میں وفاق اور صوبوں کے درمیان محصولات، اخراجات اور گورننس کے معاملات پر مشاورت ہوگی۔
کرپشن اور گورننس سے متعلق عالمی رپورٹ پر انہوں نے واضح کیا کہ یہ رپورٹ حکومتِ پاکستان کی درخواست پر تیار کی گئی، اور اس میں ٹیکس اور گورننس کے شعبوں میں پیش رفت کا اعتراف کیا گیا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ باقی سفارشات پر بھی عملدرآمد کیا جائے گا۔
ٹیکس اور توانائی کے معاملات پر سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت باضابطہ شعبے کے جائز مطالبات سے آگاہ ہے اور ٹیکس نیٹ میں اضافہ، لیکجز میں کمی اور شفافیت کے فروغ پر کام جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ صنعتوں کو ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی 200 ارب سے بڑھ کر 250 ارب روپے ہو چکی ہے جبکہ سرکلر ڈیٹ میں کمی کے لیے بھی عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
شوگر سیکٹر سے متعلق سوال پر وزیر خزانہ نے کہا کہ مستقل حل کے لیے حکومت کو درآمدات، خریداری، پروسیسنگ اور ریگولیشن کے عمل سے مکمل طور پر نکلنا ہوگا، اور یہی اصلاحات حکومت کے ایجنڈے کا حصہ ہیں۔
آخر میں انہوں نے بتایا کہ توانائی، آئی ٹی، مائننگ، لاجسٹکس، ٹیلی کام اور ای وی مینوفیکچرنگ سمیت کئی شعبوں میں بین الاقوامی کمپنیوں کی پاکستان میں دلچسپی بڑھ رہی ہے، جن میں آرامکو، وافی، گن وور، ترکیش پیٹرولیم، بیریک گولڈ، نووا منرلز، بی وائی ڈی، چیری، این ڈبلیو ٹی این موٹرز، ابو ظہبی پورٹس اور گوگل شامل ہیں، جس نے حال ہی میں پاکستان میں دفتر کھولنے کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان دو سال پہلے کے بحران سے نکل چکا ہے اور اب ایک مستقل، برآمدی اور سرمایہ کاری پر مبنی ترقی کے راستے پر گامزن ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت معیشت سے متعلق پیش رفت پر ہر ماہ میڈیا کو بریف کرے گی تاکہ شفافیت برقرار رہے۔