کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ گنا منڈی کے قریب گھر سے خاتون اور تین بچوں کی پھانسی لگی لاشیں ملیں، پولیس نے شک کی بنا پر شوہر کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کردی۔
قتل کیے جانے والوں میں خاتون، 2 بچیاں اور ایک بچہ شامل ہیں، ماں اور بڑی بیٹی کی لاشیں پنکھے کے لیے لگائے گئے کنڈے جبکہ دونوں بچوں کی لاشیں پردے کے لیے لگائے پائپ کے کلپ سے الگ الگ لٹکتی ہوئی حالت ملی ہیں۔
پولیس نفری نے کرائم سین پر پہنچ کر چاروں لاشوں کو رسیوں سے اتارا، شواہد اکھٹے کرنے کے بعد پولیس نے شک کی بنیاد پر شوہر کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کردی ہے۔
مرنے والوں میں 30 سالہ فاطمہ، 10سالہ سونم، 3 سالہ آرزو اور 2 سالہ ارمان شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق مرنے والی خاتون کا تعلق افغانستان سے ہے جبکہ شوہر نجیب اللہ کا تعلق لیہ سے ہے، نجیب اللہ سبزی منڈی میں کام کرتا ہے اور اس نے افغان خاتون سے دوسری شادی کی تھی۔
نجیب اللہ کی پہلی بیوی کا تعلق پنجاب سے تھا جسے وہ مبینہ طور پر طلاق دے چکا ہے، مرنے والوں بچوں میں ایک بچی نجیب کی پہلی بیوی سے تھی۔
بتایا جاتا ہے کہ پہلی بیوی اپنی بیٹی سے بات چیت کے لیے اکثر فون کرتی تھی، جس پر دوسری بیوی اور نجیب کے مابین جھگڑے ہوتے تھے۔
بتایا جاتا ہے کہ نجیب سبزی منڈی میں کام کرتا ہے، پولیس کے مطابق لرزہ خیز واردات کی گھتی سلجھانے کے لیے تفتیش جاری ہے۔