تنخواہ دار طبقہ سب سے بڑا ٹیکس دہندہ، چھ ماہ میں 266 ارب روپے انکم ٹیکس جمع

image

ملک میں انکم ٹیکس ادائیگیوں میں تنخواہ دار طبقہ ایک بار پھر سب سے آگے رہا۔ رواں مالی سال 2025-26ء کے پہلے چھ ماہ کے دوران ملازمین نے مجموعی طور پر 266 ارب روپے انکم ٹیکس جمع کرایا، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 23 ارب روپے زیادہ ہے۔

ایف بی آر کے مطابق تنخواہ دار طبقے کی جانب سے دیے گئے ٹیکس مجموعی انکم ٹیکس وصولیوں کا تقریباً 10 فیصد بنتا ہے۔ سرکاری اور نجی ملازمین کی جانب سے سب سے زیادہ ٹیکس ادائیگی کی روایت برقرار رہی جبکہ کارپوریٹ سیکٹر سے ٹیکس وصولی میں 13 فیصد اور نان کارپوریٹ سیکٹر سے 14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا دسمبر کے دوران نان کارپوریٹ ملازمین نے 117 ارب روپے، کارپوریٹ ملازمین نے 82 ارب روپے، وفاقی سرکاری ملازمین نے 27 ارب روپے جبکہ صوبائی سرکاری ملازمین سے 39 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا گیا۔ وفاقی سرکاری ملازمین کی جانب سے ٹیکس ادائیگی میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 8 فیصد اضافہ ہوا، تاہم صوبائی سرکاری ملازمین سے ٹیکس وصولی میں کمی دیکھنے میں آئی۔

ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں بھی ٹیکس وصولیوں میں نمایاں بہتری آئی۔ مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں اس شعبے سے 126 ارب روپے ودہولڈنگ ٹیکس وصول کیا گیا۔ پلاٹس کی فروخت پر ٹیکس وصولی 66 فیصد اضافے سے 87 ارب روپے تک پہنچ گئی جبکہ پلاٹس کی خرید پر ٹیکس آمدن 29 فیصد بڑھ کر 39 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔

دوسری جانب رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تاجر طبقے کو تاحال مؤثر طور پر ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں کیا جا سکا اور اس مالدار طبقے سے وصولیوں میں کوئی خاص بہتری نہیں آئی۔ ایف بی آر کے مطابق جولائی تا دسمبر 2025ء کے دوران مجموعی انکم ٹیکس وصولی 3 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر گئی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US