حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے کیا گیا ایک اور اہم وعدہ پورا کرتے ہوئے فسکل رسک مانیٹرنگ فریم ورک کا نظام متعارف کرا دیا ہے، جس کا مقصد پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں سے جڑے مالی خطرات کی مؤثر نگرانی کرنا ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلنے والے منصوبوں کے ہنگامی واجبات کا مجموعی حجم 472 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے، جن میں سے 368 ارب روپے ہنگامی نوعیت کے واجبات پر مشتمل ہیں۔
وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ نئے فریم ورک کے تحت وفاق اور تمام صوبے ہر چھ ماہ بعد مالی خطرات سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کے پابند ہوں گے۔ اس نظام کے ذریعے حکومت کو ممکنہ مالی جھٹکوں سے بروقت آگاہی حاصل ہو سکے گی اور قومی خزانے پر پڑنے والے دباؤ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔