بابر اعظم کے پاس صرف ایک موقع ہے کہ اب وہ آسٹریلیا میں کھیلے جانے والے بگ بیش لیگ میں اپنا نام بنائے۔ مسلسل ناکامیوں کے بعد بابر اعظم کی ٹیم سڈنی سکسرز 23 جنوری کو ٹورنامنٹ کا الیمنیٹر میچ کھیلے گی اور اگر میچ جیت گئی تو پھر 25 جنوری کو پرتھ سکورچرز کے ساتھ فائنل کھیلیں گے۔
بابر اعظم اور محمد رضوان دونوں کے لیے بگ بیش اب تک اچھا نہیں رہا ہے کہ وہ تسلسل کے ساتھ اور تیزی کے ساتھ اننگز نہیں کھیل پائے ہیں۔ بابر اعظم جنہوں نے 11 اننگز میں 200 دو رنز کیے ہیں وہ صرف 103 رنز کی اسٹرائک ریٹ پر بیٹنگ کر رہے ہیں جبکہ محمد رضوان 10 اننگز میں صرف 187 رنز کر پائے ہیں وہ بھی 102 کی اسٹرائک ریٹس ہیں جو ماڈرن ڈے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں بہت کم ہے۔
بابر پہلے کوالیفائر میچ میں برتھ کوچز کے خلاف کوئی رن نہیں کر پائے اور دو گیندوں کے بعد آؤٹ ہوگئے جبکہ رضوان آخری اننگز میں 14 گیندوں میں صرف 17 رنز کر پائے۔
پاکستان کے دونوں سابق کپتان سے امید تھی کہ وہ اپنے پہلے بگ بیش ٹورنامنٹ میں اچھی کارکردگی پیش کریں گے۔ بیٹنگ میں ناکامیوں کے علاوہ دونوں پلیئرز کے ساتھ واقعات بھی کچھ ایسے ہوئے ہیں جس سے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ سب سے زیادہ اسکور بگ بیش میں 41 رہا ہے جبکہ بابر نے 11 اننگز میں دو 50 مارے ہیں۔
دوسری جانب بالنگ میں حارث رؤف نے میلبرن کی طرف سے بہتر پرفارمنس دیتے ہوئے اب تک 18 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ ان کی ٹیم آج الیمنیٹر میچ کھیلے گی جو بارش کی وجہ سے تاحال شروع نہیں ہو پایا۔