کرپٹو ایکسچینج کی غلطی: 40 ارب ڈالرز مالیت کے بٹ کوائن صارفین کو تحفے میں ارسال

image

جنوبی کوریا کی دوسری بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینج نے اپنے صارفین کو غلطی سے 40 ارب ڈالرز سے زائد مالیت کی کرپٹو کرنسی تحفے میں بھیج دی اور اب اس کے مساوی رقم واپس حاصل کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ بٹ ہمب نامی ایکسچینج نے غلطی سے 6 لاکھ 20 ہزار کورین وون کی بجائے 6 لاکھ 20 ہزار بٹ کوائنز صارفین کو بھیج دیے۔

کمپنی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس کی جانب سے غلطی سے کریڈٹ کیے جانے والے بیشتر بٹ کوائنز کو ریکور کرلیا گیا ہے مگر اب بھی 90 لاکھ ڈالرز مالیت کے بٹ کوائنز واپس حاصل نہیں کیے جاسکے کیونکہ صارفین نے انہیں فروخت کر دیا یا غلطی سامنے آنے سے پہلے ہی فنڈز کو نکال لیا۔

یہ غلطی 6 فروری کو اس وقت ہوئی جب کرپٹو ایکسچینج کے ایک ملازم نے صارفین کو انعامی رقم کورین کرنسی کی بجائے بٹ کوائنز میں بھیج دیے۔

ایسا ایک پروموشنل ایونٹ کے لیے کیا جا رہا تھا اور کمپنی کی جانب سے 6 لاکھ 20 ہزار وون (423 ڈالرز) مالیت کے انعامات 695 صارفین کو دیے جانے تھے۔ تاہم ملازم نے کورین کرنسی کی بجائے 6 لاکھ 20 ہزار بٹ کوائنز (42 ارب ڈالرز مالیت) بھیج دیے۔ اور 695 میں سے 249 صارفین نے اپنے انعامی باکس کھولے اور انعام لے لیا۔

جنوبی کوریا کی فنانشنل سپروائزری سروس (ایف ایس ایس) کے گورنر لی چن جن نے ان صارفین کے لیے اسے تباہ کن قرار دیا جنہوں نے انعام میں ملنے والے بٹ کوائنز کو فروخت کردیا تھا۔

بٹ کوائن کی قیمتوں میں گزشتہ چند دنوں کے دوران اضافہ ہوا ہے اور لی چن جن نے کہا کہ یہ واقعہ کمپنی کے اندرونی خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جن صارفین نے انعامی بٹ کوائنز کو فروخت کیا، انہیں فوجداری مقدمات کا سامنا ہوسکتا ہے کیونکہ کورین فوجداری قوانین میں کرپٹو کرنسی کو قانونی حیثیت حاصل نہیں۔

بٹ ہمب کے مطابق اب تک 99.7 بٹ کوائنز دوبارہ حاصل کیے جاچکے ہیں جس کے لیے اندرونی طور پر انعام بھیجنے کے عمل کو ریورس کرکے معذرت نامہ بھیجا گیا، مگر 86 صارفین نے 1788 بٹ کوائنز فروخت کر دیے تھے۔

اب کمپنی کی جانب سے ایک، ایک کرکے ان صارفین سے بات چیت کی جا رہی ہے اور انہیں بٹ کوائن کے مساوی رقم کمپنی کو دینے کا کہا گیا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US