ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے کرپشن پرسیپشنز انڈیکس (سی پی آئی) 2025 میں پاکستان کی کارکردگی پر عالمی جائزوں میں ملے جلے ردعمل سامنے آئے ہیں۔ پاکستان نے 100 میں سے 27 اسکور حاصل کرتے ہوئے 182 ممالک میں 136ویں پوزیشن حاصل کی جبکہ گزشتہ سال 2024 میں 180 ممالک میں 135ویں نمبر پر تھا۔
سی پی آئی کی درجہ بندی کے لیے آٹھ آزاد ڈیٹا ذرائع استعمال کیے گئے، جو عوامی شعبے میں بدعنوانی کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہیں۔ ویرائٹیز آف ڈیموکریسی پروجیکٹ واحد ادارہ تھا جس نے پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری ظاہر کی اور اسکور 14 سے بڑھا کر 19 کر دیا۔ اس انڈیکس میں ایگزیکٹو، مقننہ اور عدلیہ سمیت عوامی شعبے میں بدعنوانی کے تاثر کو شامل کیا جاتا ہے، تاہم قانون کی عملداری اور احتساب میں بہتری نہ آنے کی وجہ سے مجموعی سی پی آئی محدود رہا۔
دوسری جانب ورلڈ اکنامک فورم کی ایگزیکٹو اوپینین سروے میں پاکستان کا اسکور 33 سے کم ہو کر 32 ہوگیا۔ یہ سروے کاروباری طبقے کی آراء پر مبنی ہوتا ہے اور سرکاری ٹھیکوں، لائسنسز، ٹیکس معاملات اور فنڈز کے استعمال میں رشوت کے رجحانات کا جائزہ لیتا ہے۔ اس کمی کو غیر رسمی ادائیگیوں اور وسائل کے غلط استعمال کے منفی اثرات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اسی طرح ورلڈ جسٹس پراجیکٹ کے رول آف لا انڈیکس میں بھی پاکستان کا اسکور 26 سے کم ہو کر 25 ہوگیا، جو قانون کے نفاذ اور احتساب میں موجود کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
پانچ دیگر عالمی ذرائع برٹلس مین فاؤنڈیشن ٹرانسفارمیشن انڈیکس، اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ، گلوبل انسائٹس کنٹری رسک ریٹنگز، پی آر ایس انٹرنیشنل کنٹری رسک گائیڈ اور ورلڈ بینک کا سی پی آئی اے نے پاکستان کے اسکور میں کوئی نمایاں تبدیلی رپورٹ نہیں کی، جسے ادارہ جاتی جمود کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ 2025 میں سی پی آئی میں ممالک کی تعداد بڑھ کر 182 ہو گئی ہے جبکہ 2024 میں 180 ممالک شامل تھے۔ عالمی جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں بدعنوانی کے خلاف اقدامات میں محدود پیش رفت ہوئی ہے، اور قانون کی عملداری اور احتساب کے شعبے میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔