ایپسٹین کا ذکر ، کیا یہ محض اتفاق ہے یا ’دی سمپسنز‘ کی ایک اور حیران کن پیشگوئی؟

image

دنیا بھر میں مقبول اینی میٹڈ شو ’دی سمپسنز‘ ایک بار پھر سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہے اس بار موضوع ہے جیفری ایپسٹین سے متعلق عدالتی دستاویزات اور مبینہ خفیہ جزیرے کا معاملہ۔

کئی دہائیوں سے اس شو کو مستقبل کی حیران کن پیشگوئیوں سے جوڑا جاتا رہا ہے۔ اسمارٹ واچ، ویڈیو کالز اور ایک بزنس مین کے امریکی صدر بننے جیسے واقعات کو ناظرین ماضی کی اقساط سے جوڑتے رہے ہیں۔ اب سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ شو نے برسوں پہلے ایپسٹین اور اس کے مبینہ جزیرے کی بھی نشاندہی کی تھی۔

بحث اس وقت تیز ہوئی جب شو کے خالق میٹ گروننگ کا نام ایپسٹین سے متعلق غیر مہر شدہ عدالتی دستاویزات میں سامنے آیا۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق 2019 میں جاری دستاویزات میں ایپسٹین کیس کی مدعی ورجینیا جیفری نے بیان دیا تھا کہ 16 سال کی عمر میں انہوں نے ایپسٹین کے نجی طیارے میں مختصر پرواز کے دوران میٹ گروننگ کو فٹ مساج دی تھی۔ تاہم انہوں نے گروننگ پر کسی بدسلوکی کا الزام عائد نہیں کیا اور انہیں مہذب قرار دیا تھا۔

بحث کا مرکز سن 2000 میں نشر ہونے والی قسط The Computer Wore Menace Shoes ہے۔ اس میں مرکزی کردار ہومر کو ایک پراسرار جزیرے پر لے جایا جاتا ہے جہاں بااثر افراد خفیہ طور پر دنیا کو کنٹرول کرتے دکھائے گئے ہیں۔

قسط کے مکالمات جیسے کوئی اس جزیرے سے واپس نہیں جاتا اور چند عجیب لوگ ایک جزیرے سے پوری دنیا چلا رہے ہیں سوشل میڈیا پر دوبارہ وائرل ہو چکے ہیں۔

آن لائن صارفین ان مناظر کو ایپسٹین کے لٹل سینٹ جیمز اور گریٹ سینٹ جیمز جزائر سے جوڑ رہے ہیں جہاں ان پر کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال اور اسمگلنگ کے سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔ یاد رہے کہ جیفری ایپسٹین 2019 میں نیویارک کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے۔

ایک اور وائرل کلپ میں شو کی ایک پرانی قسط میں لیزا سمپسن کو معروف سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ کی گود میں بیٹھا دکھایا گیا ہے۔ چونکہ ہاکنگ کا نام بھی بعض دستاویزات میں آیا تھا اس لیے بعض صارفین نے اسے بھی پیشگوئی سے جوڑ دیا حالانکہ اس منظر کا ایپسٹین کیس سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں تھا۔

تاحال ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا کہ ’دی سمپسنز‘ کی کہانیاں جیفری ایپسٹین کی سرگرمیوں پر مبنی تھیں یا شو کے تخلیق کاروں کو کسی قسم کی خفیہ معلومات حاصل تھیں۔

ماہرین کے مطابق یہ مماثلتیں محض اتفاق طویل عرصے تک جاری رہنے والے شو کی وسعت، یا حالاتِ حاضرہ پر مبنی سماجی طنز کا نتیجہ ہو سکتی ہیں۔تاہم ایک بار پھر یہ بحث زور پکڑ گئی ہے کہ کیا ’دی سمپسنز‘ واقعی مستقبل کی جھلک دکھاتا ہے یا یہ سب ناظرین کی قیاس آرائیاں ہیں؟


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US