عمران خان کی خاموشی پر سیاسی قیاس آرائیاں، ممکنہ نرمی کی بحث مگر باضابطہ تصدیق نہیں

image

سپریم کورٹ کی جانب سے حالیہ عدالتی ریلیف اور سابق وزیراعظم عمران خان کی طویل خاموشی نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مختلف سیاسی و تجزیاتی حلقوں میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ آیا ان کے لیے کسی ممکنہ مفاہمت یا قانونی و سیاسی پابندیوں میں نرمی پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم سرکاری سطح پر ایسی کسی پیش رفت کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

ذرائع کے مطابق صحت سے متعلق معاملات پر حکومت اور متعلقہ اداروں کو علاج کی سہولیات فراہم کرنے میں کوئی اعتراض نہیں، جس کی یقین دہانی اٹارنی جنرل کی جانب سے عدالت عظمیٰ میں بھی کرائی جا چکی ہے۔ متعدد مقدمات میں قید ہونے کے باعث عمران خان گزشتہ کئی ماہ سے کوئی براہِ راست پیغام جاری نہیں کر سکے، کیونکہ اہلِ خانہ، پارٹی رہنماؤں اور وکلا سے ملاقاتوں پر پابندیاں عائد رہی ہیں۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے اندر بھی غیر یقینی کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ پارٹی کے ایک سینئر رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ اگر عمران خان کو دوبارہ اظہارِ رائے یا ملاقاتوں کی اجازت ملتی ہے تو ان کا ردعمل کیا ہوگا، اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ ان کے بقول عمران خان ہمیشہ اپنے مؤقف کو اصولی قرار دیتے ہیں، تاہم ان کے لب و لہجے کی پیش گوئی آسان نہیں۔

ماضی میں وہ وکلا اور اہلِ خانہ سے ملاقاتوں کو سیاسی پیغام رسانی کے لیے استعمال کرتے رہے، جو بعد ازاں میڈیا گفتگو یا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) کے ذریعے عوام تک پہنچتے تھے۔ بعض حلقوں کے مطابق عسکری قیادت سے متعلق سخت بیانات بھی ملاقاتوں پر پابندی کی ایک وجہ سمجھے جاتے رہے ہیں۔

ادھر مبصرین نے ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی حالیہ رشتہ داروں سے ملاقاتوں کو بھی اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق یہ ملاقاتیں سخت شرائط کے تحت ممکن ہوئیں اور شریک افراد کو سیاسی گفتگو اور میڈیا سے رابطے سے گریز کی ہدایت دی گئی تھی۔

اطلاعات ہیں کہ اگر عمران خان کو بھی اہلِ خانہ اور پارٹی قیادت سے ملاقات کی اجازت دی جاتی ہے تو اسی نوعیت کی شرائط لاگو کی جا سکتی ہیں۔ تاہم اہم سوال یہ ہے کہ آیا وہ ایسی پابندیوں کو قبول کریں گے یا نہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق کسی بھی ممکنہ مفاہمت کی صورت میں سب سے بڑا چیلنج باہمی اعتماد کا فقدان ہوگا۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران ان کے غیر متوقع طرزِ عمل نے نہ صرف سیاسی درجۂ حرارت کو بلند رکھا بلکہ پارٹی کے اندر بھی تنظیمی دباؤ اور اختلافات کو جنم دیا۔ بعض حلقے کشیدگی میں کمی کے خواہاں ہیں، تاہم حتمی حکمتِ عملی کا انحصار عمران خان کے آئندہ رویے پر ہوگا، جس کے بارے میں فی الحال کوئی حتمی رائے قائم کرنا مشکل ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US