انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) سندھ جاوید عالم اوڈھو نے آباد (ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز) کے دفتر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے آباد کے عہدیداران اور بلڈرز سے اہم ملاقات کی۔ اس موقع پر ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ اور دیگر سینئر ڈی آئی جیز بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ملاقات کے دوران بلڈرز کو درپیش بھتہ خوری، دھمکیوں اور لینڈ گریبنگ جیسے سنگین مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
لینڈ گریبرز کے آگے بے بس ہیں، بھتے کی کالز دوبارہ شروع ہوگئیں، چیئرمین آباد حسن بخشی
حسن بخشی نے کہا کہ شہر میں بھتے کی کالز کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہو چکا ہے جس میں صمد کاٹھیاواڑی، جمیل چھانگا اور جاوید جانگڑا کے گروپس زیادہ ملوث ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بلاول بھٹو کی جانب سے بھتے اور زمینوں پر قبضے کی شکایات کے ازالے کے لیے بنائی گئی کمیٹی کا کورم ہی پورا نہیں ہوتا اور اجلاسوں میں پولیس حکام کی عدم موجودگی کا مسئلہ رہتا ہے۔
تاجروں کو جلد خوشخبری دیں گے، آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو
بلڈرز سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ آباد ہاؤس آنے کا بنیادی مقصد تاجروں اور بلڈرز کے مسائل کا حل نکالنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے کئی اچھے کاموں کے درمیان کوئی ایک غلطی پورا تاثر خراب کر دیتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ اقدامات کے نتیجے میں کراچی میں کرائم ریٹ 14 فیصد اور سندھ بھر میں 17 فیصد کم ہوا ہے، قتل کے واقعات میں کمی آئی ہے اور پہلی بار انڈس ہائی وے پر رات کے وقت بھی بلا خوف و خطر آمدورفت جاری ہے۔
بھتہ خوری کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے آئی جی سندھ نے اعداد و شمار بتائے کہ بلڈرز کی جانب سے درج کرائے گئے 54 مقدمات میں سے 44 حل کیے جا چکے ہیں، جن میں پولیس نے 72 بھتہ خوروں کو گرفتار کیا جبکہ 9 کو ہلاک کیا گیا، اور ایک بڑا کیس جلد حل کر کے خوشخبری دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھتہ خوری یا قبضوں میں اگر کوئی پولیس اہلکار یا تھانے کا ایس ایچ او ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف فوری انکوائری شروع کی جائے گی اور کسی کو معاف نہیں کیا جائے گا۔
زمینوں کے قبضے پر آئی جی سندھ نے کہا کہ کاغذات کی اصل ملکیت کی تصدیق کے لیے معاملات کو ایک خصوصی کمیٹی کے تحت دیکھا جاتا ہے۔ میر رضا علی کیس کے حوالے سے انہوں نے وضاحت کی کہ میڈیکو لیگل رپورٹ سے کچھ غلط فہمیاں پیدا ہوئی تھیں، تاہم اب نئی کمیٹی اس پر شفاف انداز میں کام کر رہی ہے۔ اس کیس میں کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں ہے اور جب تک ملوث عناصر کو گرفتار نہیں کر لیا جاتا، پولیس چین سے نہیں بیٹھے گی۔