وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کو جی ای ایف سے 30 لاکھ امریکی ڈالر کی فنڈنگ منظور ہو گئی ہے جس کا مقصد ملک کی سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور پائیدار ماہی گیری کے فروغ کو یقینی بنانا ہے۔
منظور شدہ فنڈنگ میں سے 12 لاکھ ڈالر سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور 18 لاکھ ڈالر ساحلی ماحولیاتی نظام کی بحالی اور بہتری پر خرچ کیے جائیں گے۔ یہ منصوبہ قومی ترجیحات کے مطابق ماحولیاتی بہتری اور معاشی ترقی کو یکجا کرے گا۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ ماہی گیری کے شعبے میں جامع اصلاحاتی پروگرام کا آغاز کیا جا رہا ہے، جس کے تحت غیر قانونی ماہی گیری کی روک تھام کے اقدامات تیز کیے جائیں گے،701 ٹونا فشنگ کشتیوں کی مانیٹرنگ اور ڈیٹا نظام جدید بنایا جائے گا،غیر رجسٹرڈ لینڈنگ سائٹس کی نگرانی کے لیے پالیسی اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ اوورفشنگ اور شکار کے بعد نقصانات کم کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر مینجمنٹ طریقہ کار اپنایا جائے گا، میرین پروٹیکٹڈ ایریاز قائم کیے جائیں گے، اور بائی کیچ میں کمی کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔ شفافیت، ٹریس ایبلٹی اور جدید انفراسٹرکچر پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔
مزید برآں ماہی گیروں کی معاشی حالت بہتر بنانے اور انہیں عالمی منڈی تک رسائی فراہم کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں (آئی او ٹی سی) اور جی 16 ممالک کے ساتھ ہم آہنگی مضبوط کی جائے گی تاکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق پائیدار ماہی گیری کو فروغ دیا جا سکے۔