اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو جیل سے نجی اسپتال منتقل کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے معاملہ میڈیکل بورڈ کے سپرد کرنے کا حکم دے دیا۔
درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس ارباب طاہر نے کی۔ سماعت کے دوران عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے کہا کہ ڈاکٹر ندیم قریشی ایک مستند ریٹینا اسپیشلسٹ ہیں اور اگر ضرورت ہو تو شفا انٹرنیشنل اسپتال میں ان سے معائنہ کروایا جاسکتا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ تسلیم شدہ ہے کہ طبی مسئلہ موجود ہے اور اس کا علاج جاری ہے۔
عدالت نے مزید کہا کہ وہ یہ تعین نہیں کرے گی کہ مریض کو اسپتال میں کتنے دن رکھا جائے، تاہم اگر منتقلی کے بعد کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو اس کی ذمہ داری کون لے گا۔ اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل ایاز شوکت نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت ذمہ داری لینے کو تیار ہے۔
بعدازاں عدالت نے فیصلہ محفوظ کرنے کے بعد سناتے ہوئے عمران خان کی نجی اسپتال منتقلی کی درخواست مسترد کردی۔
عدالت نے چیف کمشنر کو ہدایت کی کہ ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے جس میں ڈاکٹر عارف اور ڈاکٹر ندیم قریشی کو بھی شامل کیا جائے۔ عدالت کے مطابق یہی میڈیکل بورڈ فیصلہ کرے گا کہ عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں۔
مزید برآں عدالت نے جیل رولز کے مطابق عمران خان کے اہلِ خانہ کو آگاہ رکھنے کی ہدایت بھی جاری کی اور کہا کہ ڈاکٹر ندیم قریشی اس حوالے سے خاندان کے ساتھ رابطے میں رہیں گے۔