پاکستان میں غیر ملکی مصنوعات پر انحصار میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جہاں گاڑیوں اور اسمارٹ موبائل فونز سمیت متعدد لگژری اشیاء کی درآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق موجودہ مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران مجموعی درآمدات 45 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔ جولائی سے فروری تک درآمدات میں 8.21 فیصد اضافہ ہوا جس کے باعث معیشت پر 3 ارب 45 کروڑ ڈالر کا اضافی بوجھ پڑا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صرف اسمارٹ موبائل فونز اور گاڑیوں کی درآمدات کی مالیت ہی آئی ایم ایف کی ایک قسط سے زیادہ رہی، جو بڑھتے ہوئے درآمدی رجحان کی نشاندہی کرتی ہے۔
ادھر زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان میں خوراک کی درآمدات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ غذائی اشیاء کی درآمدات 18.42 فیصد بڑھ کر 6 ارب 41 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً ایک ارب ڈالر زیادہ ہیں۔
دستاویزات کے مطابق مہنگی گاڑیوں کی درآمدات میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ ہوا اور یہ 126 فیصد بڑھ کر ایک ارب 53 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔ اس کے علاوہ چینی، خشک میوہ جات، چائے، مصالحہ جات، سویا بین اور پام آئل کی درآمدات میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔