کراچی میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) امیگریشن نے سعودی عرب سے آنے والے دو مسافروں کو مشکوک سرگرمیوں کے شبے میں روک کر منظم بھکاری نیٹ ورک کا سراغ لگا لیا۔
ایف آئی اے امیگریشن حکام کے مطابق فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے مسافر محمد جمیل اور گڑیا بی بی سعودی عرب سے کراچی پہنچے تھے، جہاں کلیئرنس کے دوران انہیں مشکوک بنیادوں پر تحویل میں لیا گیا۔
ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا کہ دونوں افراد عمرہ ویزہ پر سعودی عرب گئے تھے۔ دورانِ پوچھ گچھ انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کے بیرون ملک سفر کا انتظام جہلم کے ایک ایجنٹ کشمیر علی نے کیا تھا۔
حکام کے مطابق مزید تفتیش کے دوران ایک منظم بھکاری نیٹ ورک سامنے آیا، جو سعودی عرب میں بھیک مانگ کر رقوم جمع کرتا تھا۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق یہ رقم بعد ازاں حوالہ ہنڈی کے ذریعے کینیڈا میں موجود ایک ایجنٹ تک منتقل کی جاتی تھی۔
ایف آئی اے کے مطابق زیرِ حراست افراد نے ایک سہولت کار افتخار عرف ”وکیل“ کا نام بھی ظاہر کیا ہے، جو مختلف ممالک میں افراد کو مبینہ طور پر بھیک مانگنے کے لیے بھجواتا تھا۔
تحقیقات کے دوران ایک بینک اکاؤنٹ کا بھی سراغ ملا ہے، جس کے ذریعے رقم منتقلی کا انکشاف ہوا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کے موبائل فونز سے رقوم کی رسیدیں اور وائس نوٹس بھی برآمد ہوئے ہیں، جو نیٹ ورک کے مزید شواہد فراہم کر رہے ہیں۔
ایف آئی اے نے دونوں مسافروں کو حراست میں لے کر مزید قانونی کارروائی کے لیے اے ایچ ٹی سی کراچی کے حوالے کر دیا ہے، جہاں ان سے مزید تفتیش جاری ہے۔