کراچی میں پولیس کی جانب سے جرائم کے خاتمے کے بلند بانگ دعوؤں اور اسٹریٹ کرائمز کے خلاف تسلسل سے جاری آپریشنز کے باوجود، رواں سال کے ابتدائی تین ماہ میں اسٹریٹ کرائم کی شرح میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
سی پی ایل سی کے اعداد و شمار کے مطابق، سال 2026 کے پہلے تین مہینوں میں ہی وارداتوں کی مجموعی تعداد 15 ہزار کے قریب جا پہنچی ہے، جو امن و امان کے قیام کے سرکاری دعوؤں پر سوالیہ نشان ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنوری میں 5106 اور فروری میں 4580 وارداتیں ہوئیں، جبکہ مارچ میں یہ تعداد بڑھ کر 4889 ہوگئی۔
پولیس کے سخت اقدامات کے دعوؤں کے برعکس، اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مارچ کے مہینے میں گزشتہ ماہ فروری کی نسبت موٹر سائیکل چوری اور موبائل فون چھیننے کی وارداتوں میں مزید تیزی آئی ہے۔
جرائم کے گراف میں یہ مسلسل اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حکمت عملی تاحال اسٹریٹ کرمنلز کو لگام ڈالنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے۔