پاکستان کے ابھرتے ہوئے ٹی ٹوئنٹی اوپنر صاحبزادہ فرحان نے انکشاف کیا ہے کہ سخت محنت اور پاور ہٹنگ پر توجہ دینے سے ان کے کھیل میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، جس کا سہرا وہ ساتھی کھلاڑی افتخار احمد اور کوچ عبدالرحمن کی 'کڑوی باتوں' کو دیتے ہیں۔
ایک حالیہ پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے فرحان نے بتایا کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں مسلسل تین چار سیزن ٹاپ اسکورر رہنے کے باوجود قومی ٹیم میں سلیکٹ نہ ہونے پر وہ کافی مایوس تھے، جس پر افتخار احمد اور عبدالرحمن نے انہیں واضح کیا کہ جدید ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں صرف رنز بنانا کافی نہیں بلکہ 140 سے زائد کا اسٹرائیک ریٹ اور پاور پلے میں چھکے مارنے کی صلاحیت ہونا لازمی ہے۔
صاحبزادہ فرحان کے مطابق شروع میں انہیں یہ باتیں ناگوار گزریں لیکن حقیقت کا ادراک ہونے پر انہوں نے اپنی ٹریننگ کا رخ بدل دیا اور گھنٹوں نئی و پرانی گیندوں پر پاور ہٹنگ کی مشق شروع کی۔
انہوں نے کہا کہ اب وہ ہر طرح کی گیند پر چھکا مارنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور میدان میں ان کی ترجیح ٹیم کی ضرورت کے مطابق تیز کھیلنا ہوتی ہے، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اوپنر کا کم اسٹرائیک ریٹ ٹیم کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
فرحان کا کہنا ہے کہ ان کا اصل ہدف اب پاکستان کو فتوحات دلانا اور اپنی جارحانہ بیٹنگ سے میچ پر اثر انداز ہونا ہے۔