پاکستان کے نامور ویٹ لفٹر اور کامن ویلتھ گیمز کے گولڈ میڈلسٹ محمد نوح دستگیر بٹ نے بین الاقوامی ویٹ لفٹنگ فیڈریشن (IWF) کی جانب سے عائد پابندی اور ملکی سطح پر انتظامی مسائل کے باعث اپنے کھیل کے کیریئر کے ممکنہ خاتمے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
پاکستان اسپورٹس بورڈ کی جانب سے تشکیل دی گئی عبوری کمیٹی اور بین الاقوامی باڈی کے درمیان قانونی و تنظیمی تعطل کے باعث حال ہی میں منعقدہ کامن ویلتھ گیمز میں کوئی بھی پاکستانی ویٹ لفٹر حصہ نہیں لے سکا، جبکہ آنے والے ایشین گیمز میں بھی قومی ٹیم کی شرکت غیر یقینی نظر آ رہی ہے۔
نوح بٹ نے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بحران نے ان کا اور دیگر ایتھلیٹس کا کیریئر داؤ پر لگا دیا ہے اور بغیر کسی غلطی کے انہیں بین الاقوامی مقابلوں سے محروم کیا جا رہا ہے۔
IWF نے گزشتہ سال جون میں پاکستان ویٹ لفٹنگ فیڈریشن (PWF) پر پابندی عائد کی تھی، جس کے خاتمے کے لیے 30 سے 35 ہزار ڈالر کے بقایا جات اور جرمانوں کی ادائیگی لازمی ہے۔ یہ بقایا جات 2021 سے جاری اینٹی ڈوپنگ قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں، ڈوپ ٹیسٹ سے فرار اور عہدیداروں کی جانب سے ممنوعہ ادویہ کی فراہمی کے نیٹ ورک کے باعث پیدا ہوئے۔ اس کے علاوہ اسپورٹس کی ثالثی عدالت (CAS) نے جعل سازی پر ایک پاکستانی ایتھلیٹ پر چار سالہ حتمی پابندی بھی عائد کی تھی۔
پاکستان اسپورٹس بورڈ کی جانب سے 'آپریشن جیسمین' کے تحت عالمی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (WADA) کے قوانین توڑنے پر سات ویٹ لفٹرز اور کوچز کو معطل کیا گیا تھا۔
اس وقت پی ایس بی کی قائم کردہ عبوری کمیٹی معاملات دیکھ رہی ہے لیکن آئی ڈبلیو ایف اس کمیٹی کو تسلیم نہیں کرتی۔ عبوری کمیٹی نے جرمانوں کی فوری ادائیگی اور تعطل کے خاتمے کے لیے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن (POA) اور دیگر اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا ہے تاکہ پاکستان آئندہ ایشین گیمز اور ساؤتھ ایشین گیمز میں شرکت کے قابل ہوسکے۔