پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے کہا ہے کہ پاکستان سپر لیگ نئے کھلاڑیوں کی پہچان کرنے کے لیے بہترین پلیٹ فارم ہے مگر ان کھلاڑیوں کو سیدھے انٹرنیشنل کرکٹ میں ڈالنا صحیح نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل سے نئے کھلاڑیوں کی پہچان کی جائے اور اس کے بعد ان کو ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کے لیے بھیج دیا جائے اور پھر ان کی پرفارمنس دیکھ کر قومی ٹیم کے لیے سلیکٹ کیا جائے۔
سلمان علی آغا نے کہا کہ بہت سی ایسی مثالیں ہیں جہاں کھلاڑیوں کو پی ایس ایل سے سلیکٹ کرکے انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کے لیے بھیجا گیا اور وہ ناکام رہے۔ انھوں نے کہا کہ میری نظر میں نئے کھلاڑیوں کو بہتر طریقے سے تیار کرنے کی ضرورت ہے اور اس معاملے میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے۔
پاکستان کے سینئر کھلاڑی نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کے لیے اگلے سال ہونے والا آئی سی سی 50 اوورز کا ورلڈ کپ بہت اہمیت کا حامل ہے اور اگر ضرورت پڑی تو وہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ سے وقفہ لے کر ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹ پر زیادہ توجہ دیں گے۔
سلمان علی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور ہونے والے پی ایس ایل میں ان کی فارم اچھی نہیں جس کی وجہ سے وہ خود بھی پریشان ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی اگلے سال کے ورلڈ کپ کو ذہن میں رکھ کر کررہے ہیں اور اچھی چیز یہ ہے کہ اس سال دسمبر تک کوئی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ نہیں کھیلنی جس سے انہیں پورا موقع ملے گا کہ وہ لمبی طرز کی کرکٹ پر زیادہ دھیان دے سکیں اور اس کی تیاری کرسکیں۔