پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے بنگلا دیش کے خلاف دو ٹیسٹ میچز کی سیریز کے لیے 16 رکنی قومی اسکواڈ کے اعلان کے بعد سلیکشن پالیسی پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
اسکواڈ میں گزشتہ سیریز کے مقابلے میں پانچ تبدیلیاں کی گئی ہیں جبکہ حیران کن طور پر دو تجربہ کار کھلاڑی محمد عباس اور عماد بٹ کو دوبارہ شامل کیا گیا ہے جن کی عمر 36 سال کے قریب بتائی جاتی ہے۔
دوسری جانب تین نوجوان کھلاڑیوں عبداللہ فضل، اذان اویس اور وکٹ کیپر محمد غازی غوری کو بھی ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے جنہیں ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ کارکردگی کی بنیاد پر موقع دیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق نوجوان کھلاڑیوں کی شمولیت ایک مثبت قدم ہے تاہم بار بار تبدیلیاں سلیکشن پالیسی کے تسلسل پر سوال اٹھاتی ہیں خصوصاً ایسے وقت میں جب پاکستان کو ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں آگے بڑھنے کے لیے مستقل مزاجی کی ضرورت ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے اس دورے کے لیے 12 آفیشلز کو بھی ٹیم کے ساتھ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے جس پر کفایت شعاری پالیسی کے تناظر میں تنقید بھی سامنے آ رہی ہے۔
یاد رہے کہ سابق کپتان سرفراز احمد کو بنگلا دیش ٹور کے لیے ہیڈ کوچ جبکہ اسد شفیق اور عمر گل کو بالترتیب بیٹنگ اور بولنگ کوچ مقرر کیا گیا ہے۔ٹیم کی قیادت شان مسعود کے سپرد ہے جبکہ اسکواڈ میں شامل کھلاڑیوں کی تبدیلیوں اور انتظامی فیصلوں پر کرکٹ حلقوں میں بحث جاری ہے۔