زمبابوے کے فاسٹ بالر بلیسنگ مزاربانی کے ایجنٹ راب ہمپریز نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے کھلاڑی پر عائد کی گئی دو سالہ پابندی کو ضرورت سے زیادہ سخت اور بلاجواز قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں ایجنٹ نے موقف اختیار کیا ہے کہ مزاربانی نے پاکستان سپر لیگ کی فرنچائز اسلام آباد یونائٹڈ کے ساتھ کسی قسم کا کوئی باقاعدہ معاہدہ نہیں کیا تھا، لہٰذا پابندی کا کوئی قانونی جواز نہیں بنتا۔
واضح رہے کہ پی سی بی نے بلیسنگ مزاربانی پر دو سال کے لیے پی ایس ایل کے دروازے بند کردیے ہیں، بورڈ کا موقف ہے کہ کھلاڑی نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں کولکتہ نائٹ رائڈرز کے ساتھ معاہدہ کیا۔ تاہم کھلاڑی کے ایجنٹ کا کہنا ہے کہ اسلام آباد یونائٹڈ سے بات چیت ضرور ہوئی تھی مگر فرنچائز کی جانب سے دستخط کے لیے کوئی باضابطہ معاہدہ نہیں بھیجا گیا تھا۔
راب ہمپریز کے مطابق فاسٹ بالر نے 13 فروری کو پی ایس ایل کھیلنے کے لیے خود اسلام آباد یونائیٹڈ سے رابطہ کیا تھا اور بات چیت جاری تھی، لیکن 27 فروری کو جب کولکتہ نائٹ رائڈرز نے رابطہ کیا تو کھلاڑی نے ان کے ساتھ معاہدہ کرلیا۔
ایجنٹ نے مزید وضاحت کی کہ ان کے کلائنٹ کو نہ تو پی ایس ایل کے ڈرافٹ میں منتخب کیا گیا تھا اور نہ ہی کوئی تحریری کنٹریکٹ ہوا، اس لیے معاہدے کی خلاف ورزی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی کرکٹ شائقین کی جانب سے سوشل میڈیا پر کھلاڑی کو نشانہ بنائے جانے کے بعد وہ حقائق سامنے لانے پر مجبور ہوئے ہیں۔