کرکٹ آسٹریلیا کی جانب سے بگ بیش لیگ کی ٹیموں کی نجکاری کا منصوبہ شدید مخالفت کے باعث کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کرکٹ آسٹریلیا کے دو اہم اراکین، نیو ساؤتھ ویلز اور کوئنز لینڈ، نے اس منصوبے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مخالفت کی۔ ان کا مؤقف ہے کہ نجکاری کی صورت میں ٹیمیں ممکنہ طور پر بھارتی کمپنیوں یا افراد کے ہاتھوں فروخت ہو سکتی ہیں، جس سے آسٹریلوی کرکٹ میں بیرونی اثر و رسوخ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ انڈین پریمیئر لیگ سے وابستہ مالکان دنیا کی دیگر لیگز میں بھی ٹیمیں خرید رہے ہیں جس سے بگ بیش لیگ کی خودمختاری متاثر ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق کرکٹ آسٹریلیا کو ٹیموں کی نیلامی کے لیے تمام اراکین کی منظوری درکار تھی جو حاصل نہ ہونے کے باعث منصوبہ مؤخر کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس دی 100 میں نجکاری کے دوران متعدد ٹیمیں آئی پی ایل فرنچائز مالکان نے خرید لی تھیں جس کے بعد اس ماڈل پر مزید سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
کرکٹ آسٹریلیا کے اس اقدام پر اس وقت شدید بحث جاری ہے جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے فیصلے ملکی کرکٹ کے ڈھانچے کو بیرونی اثرات کے لیے کھول سکتے ہیں۔