پاکستان ہاکی اسکواڈ کی ایف آئی ایچ ورلڈ کپ کے لیے روانگی سے چند ہی روز قبل، پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) نے ٹیم کے غیر ملکی گول کیپنگ کوچ کا عہدہ بڑھا کر انہیں ہیڈ کوچ مقرر کردیا ہے۔
پی ایچ ایف نے آخری لمحات میں اعلان کیا کہ ہرمن کروئس، جنہیں پہلے ہیڈ کوچ نامزد کیا گیا تھا، اب فیڈریشن کے مشیر ہوں گے، جبکہ گول کیپنگ کوچ باب جوہان ویلڈہوف نئے ہیڈ کوچ ہوں گے۔
جون-جولائی میں یورپ میں کھیلی گئی ایف آئی ایچ پرو لیگ کے بعد کوچنگ کے نظام میں تبدیلی لاتے ہوئے پی ایچ ایف نے کروئس، ویلڈہوف اور کرسٹوفر بوون کو بالترتیب ہیڈ کوچ، گول کیپنگ کوچ اور اسسٹنٹ کوچ کے طور پر شامل کیا تھا۔
ایک بااعتماد ذریعہ نے بتایا کہ ڈچ نژاد تجربہ کار کوچ ہرمن کروئس نے درحقیقت پی ایچ ایف کو آگاہ کر دیا تھا کہ وہ ورلڈ کپ کے بعد ہی پاکستان ٹیم کے ساتھ مستقل بنیادوں پر کوچنگ کی ذمہ داری سنبھال سکیں گے۔
ذرائع کا کہنا تھا: "وہ اپنی موجودہ ذمہ داری جاری رکھنے کے لیے نیدرلینڈز واپس چلے گئے تھے، لیکن پی ایچ ایف کو امید تھی کہ وہ بیلجیئم اور نیدرلینڈز میں منعقد ہونے والے ورلڈ کپ کے دوران بھی دستیاب ہوں گے۔"
ذرائع نے مزید بتایا کہ بالآخر کروئس نے واضح کر دیا کہ وہ ورلڈ کپ کے دوران پاکستان اسکواڈ کو اپنا مکمل وقت نہیں دے سکیں گے، جس کے بعد کسی سابق پاکستانی کھلاڑی کو لانے کے بجائے گول کیپنگ کوچ کو ترقی دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
سابق ہاکی اولمپین فرحت خان نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ویلڈہوف کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہیڈ کوچ کے طور پر ان کے تجربے کی کمی ہوگی۔
فرحت خان نے کہا: "اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ہمارے گول کیپرز کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوں گے، لیکن بطور ہیڈ کوچ ان کا عدم تجربہ تشویشناک ہے۔ جدید ہاکی میں ہیڈ کوچ اپنے اسسٹنٹ کوچز اور ویڈیو اینالسٹ کی مدد سے تمام اہم فیصلے کرتا ہے۔"