پاکستان کرکٹ بورڈ نے ابھی تک ان کھلاڑیوں کی فہرست کا اعلان نہیں کیا ہے جنہیں ادائیگی اور زمرہ بندی (کیٹیگری) کے نئے نظام کے تحت نئے سینٹرل کنٹریکٹس ملیں گے۔
عام طور پر پی سی بی ان کھلاڑیوں کی فہرست کا اعلان اگست کے پہلے ہفتے تک کردیتا ہے جنہیں یہ معاہدے ملتے ہیں، کیونکہ یہ کنٹریکٹس ہر مالی سال جون سے جولائی تک نافذ العمل ہوتے ہیں۔
لیکن اس بار، ایک قابل اعتماد ذریعہ کے مطابق، بورڈ نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا ہے کہ آیا کنٹریکٹ حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کے ناموں کو عام (پبلک) کیا جائے یا نہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ ”سوچ یہ ہے کہ ان کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کرنا ضروری نہیں ہے جنہیں یہ نئے معاہدے دیے جانے ہیں، کیونکہ یہ بورڈ کا ایک اندرونی معاملہ ہے۔“
پاکستان کے ون ڈے کپتان شاہین شاہ آفریدی سے پیر کے روز ملتان میں میڈیا سے گفتگو کے دوران ان کنٹریکٹس کے بارے میں پوچھا گیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ انہیں اس بارے میں کوئی اندازہ نہیں ہے کہ سینٹرل کنٹریکٹس کا کیا بن رہا ہے۔
پی سی بی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ اس مالی سال میں کھلاڑیوں کو سنیارٹی کے پرانے طریقہ کار کے بجائے مختلف فارمیٹس کی بنیاد پر کیٹیگریز میں تقسیم کرکے کنٹریکٹس دے گا۔
سینئر سلیکٹر عاقب جاوید نے کہا کہ کھلاڑیوں کو ان فارمیٹس کی کیٹیگریز میں رکھا جائے گا جن میں وہ مہارت رکھتے ہیں، جیسے ٹیسٹ کیٹیگری، ٹی ٹوئنٹی اسپیشلسٹ کیٹیگری وغیرہ۔
پی سی بی نے ابھی گزشتہ ہفتے اسلام آباد ہائی کورٹ سے 22 ستمبر تک کا التوا (سٹے آرڈر) حاصل کیا ہے، جب ایک سرکاری ادارے نے بورڈ سے اپنے تمام مالیاتی اور دیگر اکاؤنٹ تفصیلات فراہم کرنے کا کہا تھا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی سربراہی میں موجودہ پی سی بی سیٹ اپ اپنے مالیاتی امور کے بارے میں غیر معمولی طور پر راز داری برت رہا ہے اور 2023 سے بورڈ کی ویب سائٹ پر کوئی آڈٹ شدہ گوشوارے پوسٹ نہیں کیے گئے ہیں، جو کہ پہلے بورڈ کا معمول ہوا کرتا تھا۔
پی سی بی نے انتہائی ہوشیاری سے صرف وہی مالیاتی تفصیلات یا اعداد و شمار میڈیا کے ساتھ شیئر کیے ہیں جنہیں انہوں نے اپنے لیے فائدہ مند سمجھا۔
ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا کہ فارمیٹ کی بنیاد پر کھلاڑیوں کی کیٹیگریز بنانے کے نئے فریم ورک کی وجہ سے بورڈ بظاہر یہ فیصلہ کرنے میں مشکلات کا شکار ہے کہ کس کھلاڑی کو کس فارمیٹ میں رکھا جائے۔