پاکستان کی ہاکی ٹیم اگلے ماہ بیلجیئم اور انگلینڈ میں ہونے والے ایف آئی ایچ پرو لیگ ایونٹ کے آخری مرحلے میں دو بار اپنے روایتی حریف بھارت کے مدمقابل آئے گی۔
پاکستان کے نئے ہیڈ کوچ منظور الحسن نے کہا کہ بھارت، اسپین، بیلجیئم اور انگلینڈ کے خلاف دو دو میچز (کل آٹھ میچز) کھیلنے سے کھلاڑیوں کو 15 اگست سے بیلجیئم اور نیدرلینڈز میں شروع ہونے والے ورلڈ کپ کے لیے بہتر تیاری کرنے میں مدد ملے گی۔ پاکستان نے آٹھ طویل سالوں کے بعد ورلڈ کپ کے مین راؤنڈز کے لیے کوالیفائی کیا ہے۔
منظور الحسن کا کہنا تھا کہ موجودہ ٹیم میں چھ سے سات ورلڈ کلاس کھلاڑی موجود ہیں اور پرو لیگ کے پہلے دو مراحل میں کھیلنے سے بھی کھلاڑیوں کو اپنا کھیل بہتر بنانے میں مدد ملی ہے۔ اگر آپ دوسری ٹیموں کو دیکھیں تو وہ 2019 سے پرو لیگ کھیل رہی ہیں جس میں ہم شرکت نہیں کرسکے تھے اور اس کا ہمیں بہت نقصان ہوا۔
سابق اولمپین کوچ نے کہا کہ ان کا بنیادی ہدف یہ یقینی بنانا ہے کہ ٹیم 2026 کے ایشین گیمز میں کھیلے اور وہاں سے براہ راست 2028 کے لاس اینجلس اولمپک گیمز کے لیے کوالیفائی کرے۔ پاکستان 2012 کے لندن اولمپکس کے بعد سے اولمپک گیمز کے لیے کوالیفائی کرنے میں ناکام رہا ہے۔
پاکستانی ہیڈ کوچ نے مزید کہا کہ ان کی سب سے بڑی تشویش ٹیم کا ڈیپ ڈیفنس ہے اور وہ اس شعبے میں بڑی بہتری دیکھنا چاہتے ہیں۔