دنیا کے دو گنجان آباد ترین ممالک، چین اور بھارت میں ورلڈ فٹ بال کپ کے نشریاتی حقوق فروخت کرنے میں فیفا (FIFA) کو مشکلات کا سامنا ہے۔
امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں 11 جون سے شروع ہونے والے ورلڈ کپ کے حوالے سے فیفا کو بھارت اور چین سے نشریاتی حقوق کے لیے اچھی پیشکشیں حاصل کرنے میں دشواری ہو رہی ہے۔
فیفا نے بھارتی کمپنی ڈزنی ہاٹ اسٹار (Disney Hotstar) کی جانب سے دی گئی 20 ملین ڈالر کی پیشکش مسترد کر دی ہے، جبکہ چین میں وہ قومی براڈکاسٹر جو ورلڈ کپ دکھاتا ہے، اس نے اب تک کوئی پیشکش ہی نہیں کی۔
فیفا نے شروع میں بھارت میں 2026 اور 2030 کے ورلڈ کپ کے حقوق 100 ملین ڈالر میں فروخت کرنے کی پیشکش کی تھی، لیکن اسے بہت ہی معمولی پیشکشیں موصول ہوئی ہیں۔
فیفا کو توقع ہے کہ ورلڈ کپ تمام ذرائع سے 30 بلین ڈالر کی آمدنی پیدا کرے گا۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ فیفا کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کا بھارت، چین اور دیگر جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ وقت کا فرق (Time Zones) ہے۔
میچوں کے اوقات جنوبی ایشیا میں رات گئے یا آدھی رات کے ہیں، جس کے بارے میں براڈکاسٹرز کا خیال ہے کہ یہ اسپانسرز اور مشتہرین کو اچھی پیشکشیں دینے سے روک دے گا۔
قطر میں منعقدہ 2022 کے ورلڈ کپ کے بعد فیفا کی آڈٹ رپورٹس کے مطابق، چین کے پاس دنیا بھر میں سب سے زیادہ ویورشپ کا حصہ تھا، جہاں ڈیجیٹل ویورشپ 49 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔
ٹیلی ویژن پر، گزشتہ ورلڈ کپ کے دوران چین کی ویورشپ کا حصہ 17.7 فیصد تھا۔
آڈٹ رپورٹس میں بتایا گیا کہ چین میں تقریباً 512 ملین افراد نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ورلڈ کپ کے میچز دیکھے۔
اس کے برعکس، گزشتہ ورلڈ کپ کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم ویورشپ میں بھارت کا حصہ 2.9 فیصد تھا جبکہ 85 ملین افراد نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ورلڈ کپ کو فالو کیا تھا۔