پاکستان سپر لیگ کے 11ویں ایڈیشن میں دو سنچریوں کی مدد سے 588 رنز بنانے اور پشاور زلمی کو پی ایس ایل ٹائٹل جتوانے کے باوجود، بہت سے سابق کھلاڑی اور ناقدین اب بھی یہ نہیں مانتے کہ لیگ میں ان کی یہ کارکردگی قومی ٹی 20 اسکواڈ میں ان کی جگہ کے لیے کافی ہے۔
بابر اعظم جو اتوار کو ہونے والے فائنل میں پہلی ہی گیند پر صفر (ڈک) پر آؤٹ ہوگئے تھے، انہوں نے خود اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وہ ایک بار پھر پاکستان کے لیے ٹی 20 انٹرنیشنلز میں اوپننگ کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، کئی سابق کھلاڑی اور مبصرین اب بھی اس بات پر قائل نہیں ہیں کہ وہ قومی ٹیم میں شامل ہونے کے مستحق ہیں۔
سابق ٹیسٹ وکٹ کیپر کامران اکمل نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ حالیہ ٹی 20 انٹرنیشنل ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے، پی ایس ایل کی سپاٹ (فلیٹ) پچوں پر بابر کی کارکردگی کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
ایک اور سابق ٹیسٹ کھلاڑی باسط علی نے بھی کہا کہ اصل مزہ تو تب ہے جب بابر انٹرنیشنل کرکٹ میں بھی اسی اعتماد کے ساتھ رنز بنائیں جیسے انہوں نے پی ایس ایل میں بنائے ہیں۔
کرکٹ رائٹر، ہوسٹ اور مورخ ڈاکٹر نعمان نیاز کا پختہ یقین ہے کہ پی ایس ایل میں کارکردگی جیسی بھی ہو، بابر کو قومی ٹی 20 اسکواڈ میں نہیں ہونا چاہیے، بلکہ سلیکٹرز کو اگلے ورلڈ کپ کے لیے ایک نئی ٹیم تیار کرنی چاہیے۔ نعمان نیاز کا کہنا تھا کہ بابر اور کچھ دیگر سینئر کھلاڑیوں کو آئی سی سی ایونٹس اور ایشیا کپ میں کافی مواقع مل چکے ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ ایک نیا ٹی 20 اسکواڈ تشکیل دیا جائے۔
سابق ٹیسٹ بلے باز احمد شہزاد کا بھی ماننا ہے کہ پی ایس ایل کی کارکردگی بابر کو پاکستان کی ٹی 20 ٹیم میں واپسی کا "فری پاس" نہیں دیتی کیونکہ جدید دور کی کرکٹ بہت بدل چکی ہے۔
بابر اعظم اس وقت بنگلادیش کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے پاکستان ٹیم کے ساتھ موجود ہیں۔ پی ایس ایل فائنل سے قبل بابر نے شکایت کی تھی کہ کچھ سابق کھلاڑی ان پر بہت زیادہ تنقید کرتے ہیں اور یہاں تک کہ ذاتی ریمارکس بھی دیتے ہیں، لیکن وہ ان کو جواب دینے کے بجائے اپنی بیٹنگ پر توجہ مرکوز رکھیں گے۔
ایک اور سابق کپتان محمد حفیظ نے مگر بابر کے دفاع میں کہا ہے کہ انہوں نے پی ایس ایل کے دوران اپنے انداز اور سٹرائکلیٹ دونوں سے ناقدین کا جواب دیا ہے۔ حفیظ نے کہا کہ جس طرح بابر کھل کر پی ایس ایل میں کھیلے اگر وہ اسی طرح پاکستان کے لیے بھی کھیلے تو بہت فائدہ ہوگا۔