مستقبل کی مالی مشکلات سے بچنے کی بظاہر کوشش کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے نادہندہ فرنچائزز، براڈکاسٹ اور کاروباری شراکت داروں سے اربوں روپے کی وصولی کے لیے ایک سخت مہم شروع کردی ہے۔
بورڈ کے قریبی ذرائع کے مطابق نادہندگان کو حال ہی میں نوٹس بھیجے گئے تھے کہ وہ اپریل کے آخر تک اپنے واجبات ادا کر دیں بصورت دیگر قانونی کارروائی اور ان کے معاہدوں کی منسوخی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی طور پر پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی کچھ نادہندہ فرنچائزز کو بھی اپنی بقایا سالانہ فیس ادا کرنے یا کارروائی کا سامنا کرنے کے نوٹس بھیجے گئے تھے۔ ان فرنچائزز نے اب اپنے واجبات ادا کر دیے ہیں لیکن ساتھ ہی بورڈ سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ وہ 2010 سے زیرِ التوا فرنچائزز کے سینٹرل پول (مرکزی فنڈ) سے ان کا حصہ کلیئر کرے۔
انہوں نے بتایا کہ ایک فرنچائز کے اس شکوے کے جواب میں کہ ان کی سالانہ فیس اس لیے تاخیر کا شکار ہوئی کیونکہ بورڈ نے پی ایس ایل کے 10ویں ایڈیشن کے سینٹرل پول سے ان کے تقریباً 96 کروڑ روپے کا مکمل حصہ ادا نہیں کیا تھا، فرنچائز کو ٹکا سا جواب دیا گیا کہ جب تک معاہدہ کرنے والی پارٹیاں اپنے وعدے پورے نہیں کرتیں، بورڈ واجبات کیسے ادا کرسکتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بورڈ نے پی ایس ایل 2025 کے سینٹرل پول کی مد میں اب بھی کچھ فرنچائزز کے 40 سے 45 کروڑ روپے دینے ہیں۔
ذرائع کے مطابق بورڈ کی سب سے بڑی نادہندہ وہ کمپنی ہے جو نہ صرف پی ایس ایل بلکہ دیگر بین الاقوامی کرکٹ کے لیے پی سی بی سے براڈکاسٹ، دیگر میڈیا اور کاروباری حقوق حاصل کرنے میں شامل تھی، لیکن انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں بھاری نقصان ہوا ہے اور ابھی تک تقریباً 4.5 ارب روپے کے واجبات ادا کرنا باقی ہیں۔
ذرائع نے مزید کہاکہ اسی وجہ سے بورڈ اپنا مالیاتی ریکارڈ درست رکھنے اور اپنے کھاتوں کا آڈٹ کرنے کے قابل نہیں رہا۔
انہوں نے تصدیق کی کہ پی ایس ایل کی دو نئی فرنچائزز اور ملتان سلطانز کے نئے مالکان نے گزشتہ اتوار کو ختم ہونے والے پی ایس ایل 11 کے آغاز سے قبل اپنی تمام سالانہ فرنچائز فیس اور دیگر واجبات ادا کر دیے تھے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ بات یہ ہے کہ جہاں یہ نئی فرنچائزز اپنے معاملات میں کلیئر ہیں، وہیں اب بورڈ کو انہیں پی ایس ایل 11 اور اگلے چار ایڈیشنز کے لیے سینٹرل پول سے 85 کروڑ روپے کی کم از کم ضمانت شدہ رقم ادا کرنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ کچھ دوسری نادہندہ پارٹیاں بھی ہیں جنہوں نے بورڈ سے مختلف سپانسرشپس، اشتہارات اور میڈیا سلاٹس خریدے ہوئے ہیں۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ جب بورڈ نے پی ایس ایل 11 کے براڈکاسٹنگ اور اسٹریمنگ حقوق ایک نئی پارٹی کو فروخت کیے، جو راولپنڈی فرنچائز کی مالک بھی ہے، تو انہوں نے آگے چل کر یہ حقوق اسی پارٹی کو ذیلی ٹھیکے (sublet) پر دے دیے جو پہلے ہی اربوں روپے کی نادہندہ ہے۔