کرکٹ میں اب غیر ملکی کھلاڑیوں کے انتخاب اور ان کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا استعمال کیا جارہا ہے، جبکہ پاکستان میں کرکٹ کا ڈھانچہ اب بھی ایک مستحکم ڈومیسٹک اسٹرکچر سے محروم ہے۔
انگلینڈ میں تین کاؤنٹیز، کینٹ، گلیمورگن اور لیسٹر شائر نے اپنی ٹی ٹوئنٹی چیمپئن شپ میں ایسی کرکٹ گیندوں کا استعمال کرتے ہوئے تجربات شروع کیے ہیں جن میں سینسرز اور ایک اے آئی چپ نصب ہے۔
یہ سینسرز اور اے آئی چپ گیند کھیلنے یا اسے ہٹ کرنے والے بلے باز کا تمام ڈیٹا اکٹھا کرتے ہیں، جیسے کہ اس کی طاقت، قوت، شاٹس کا زاویہ اور بیٹ کی رفتار وغیرہ۔
اسی طرح اس گیند سے بالنگ کروانے والے بالر کا ڈیٹا بھی چپ کے ذریعے جمع کیا جاتا ہے، جس میں اس کی رفتار اور گیند کی سائیڈ موومنٹ وغیرہ شامل ہوتی ہے۔
کرکٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اے آئی پر مبنی یہ نئی ٹیکنالوجی کوچز اور سلیکٹرز کو میچ کی منصوبہ بندی یا کھلاڑیوں کے انتخاب کے دوران زیادہ حسابی اور درست فیصلے کرنے میں مدد فراہم کرے گی۔