پاکستان منگل کے روز ڈھاکا ٹیسٹ کے آخری سیشن میں 104 رنز سے شکست کھا کر زمبابوے کے بعد بنگلا دیش کے خلاف لگاتار تین ٹیسٹ میچ ہارنے والا دنیا کا دوسرا ملک بن گیا۔
بنگلا دیش کی جانب سے دیے گئے 267 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی پوری ٹیم دوسری اننگز میں محض 163 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ بنگلا دیشی تیز گیند باز ناہید رانا، جو پاکستان سپر لیگ کا تجربہ بھی رکھتے ہیں، پاکستانی بیٹنگ لائن کے لیے ڈراؤنا خواب ثابت ہوئے اور 40 رنز کے عوض 5 وکٹیں حاصل کر کے اپنی ٹیم کی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔
پاکستان کی بنگلا دیش کے ہاتھوں ٹیسٹ کرکٹ میں یہ مسلسل تیسری ناکامی ہے، اس سے قبل 2024 میں بنگلا دیش نے پاکستان کو اس کے ہوم گراؤنڈ پر دو صفر سے تاریخی شکست دی تھی۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی کپتان شان مسعود کی قیادت میں کھیلے گئے 15 ٹیسٹ میچوں میں ٹیم کو 11 ویں بار شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، جبکہ مجموعی طور پر 2020 سے اب تک پاکستان 45 میں سے 22 ٹیسٹ میچ ہار چکا ہے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ دسمبر 2023 سے اب تک پاکستانی ٹیم 9 بار چوتھی اننگز میں 200 رنز کا ہندسہ عبور کرنے میں ناکام رہی ہے جو بیٹنگ لائن کی مسلسل گرتی ہوئی کارکردگی کی نشاندہی کرتا ہے۔