انڈین پریمیئر لیگ 2026 کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے کیونکہ روایتی ٹیلی ویژن پر ناظرین کی تعداد میں گزشتہ سال کے مقابلے میں تیزی سے کمی دیکھی گئی ہے۔
دو معتبر اداروں، BARC اور TAM کی رپورٹ کے مطابق 2025 کے مقابلے میں اس سیزن کے پہلے نصف حصے کے دوران لکیری (linear) ٹی وی کے نمبروں میں تیزی سے گراوٹ آئی ہے۔ ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کمی روایتی براڈکاسٹ میٹرکس میں سب سے زیادہ نمایاں ہے کیونکہ اوسط ناظرین کی تعداد تقریباً 26 فیصد گرگئی ہے جو تقریباً 10.6 ملین سے کم ہو کر 7.84 ملین فی میچ رہ گئی ہے۔
ٹی وی ریٹنگز میں تقریباً 18.8فیصد کمی آئی ہے جو 4.57 سے گر کر 3.71 پر آگئی ہیں۔ لکیری ٹی وی کی مجموعی رسائی (total reach) بھی تقریباً 8.3 فیصد کم ہوئی ہے (124 ملین سے 113.6 ملین تک)۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ٹیلی ویژن پر اشتہار دینے والوں کی شرکت میں بھی کمی آئی ہے، ٹی وی پر اشتہار دینے والے برانڈز کی تعداد تقریباً 31 فیصد گرگئی ہے، پچھلے سیزن میں 65 سے زائد برانڈز کے مقابلے میں اس سال تقریباً 45 برانڈز حصہ لے رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ روایتی ٹیلی ویژن کے ناظرین میں اس کمی کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ اب زیادہ لوگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر آئی پی ایل دیکھ رہے ہیں، جہاں سستے سبسکرپشن پیکجز کی وجہ سے ریکارڈ مصروفیت دیکھی جا رہی ہے۔
ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ تقریباً دو دہائیوں کے بعد اب کچھ شائقین "آئی پی ایل کی زیادتی" (IPL overkill) کی شکایت کررہے ہیں۔ 74 میچز اور مسلسل ہائی اسکورنگ گیمز (جو اکثر 220 رنز سے تجاوز کرجاتے ہیں) کی وجہ سے وہ کمی اور غیر یقینی صورتحال اب کم ہوگئی ہے جو کبھی میچوں کو "لازمی دیکھنے والا" ٹی وی مواد بناتی تھی۔
مزید برآں، آئی پی ایل کا آغاز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فوراً بعد ہوا، جس سے مارکیٹ میں کرکٹ کی اتنی بھرمار ہوگئی کہ شائقین شاید اکتاہٹ محسوس کرنے لگے۔