بنگلا دیش کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ کے چوتھے اور ماقبل آخری دن پاکستانی بلے بازوں نے کچھ ہمت اور مزاحمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے 7 وکٹوں کے نقصان پر 316 رنز بنالیے ہیں۔ تاہم، میچ جیتنے اور دو میچوں کی سیریز برابر کرنے کے لیے پاکستان کو اب بھی مزید 121 رنز درکار ہیں۔
سلہٹ میں 437 رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے کپتان شان مسعود (71)، سلمان علی آغا (71) اور محمد رضوان (75 ناٹ آؤٹ) کی شاندار نصف سنچریوں اور بابر اعظم کی عمدہ 47 رنز کی اننگز کی بدولت پاکستان نے بنگلا دیش کو ٹف ٹائم دیا۔
ایک موقع پر پاکستان 5 وکٹوں پر 296 رنز بنا کر مضبوط پوزیشن میں تھا، لیکن پھر کھیل ختم ہونے سے کچھ دیر قبل سلمان اور حسن علی کی صورت میں دو مسلسل وکٹیں گرنے سے میزبان ٹیم میچ میں واپس آ گئی۔
بنگلا دیشی کپتان نجم الحسن شانتو نے دوسری نئی گیند لیفٹ آرم اسپنر تاج الاسلام کے ہاتھ میں تھمائی، جنہوں نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے دو شکار کیے۔ انہوں نے پہلے سلمان کو 71 رنز پر ایک آل راؤنڈر گیند پر بولڈ کیا اور پھر حسن علی کو سلپ میں کیچ آؤٹ کروایا۔
ان دو وکٹوں کے گرنے سے قبل سلمان اور رضوان کافی پراعتماد دکھائی دے رہے تھے اور انہوں نے چھٹی وکٹ کے لیے 158 رنز کی شراکت داری قائم کی، جبکہ اس سے قبل شان اور بابر نے بھی 92 رنز کی مضبوط پارٹنرشپ بنائی تھی۔
پاکستان نے چوتھی صبح کا آغاز بغیر کسی نقصان کے کیا تھا، لیکن دونوں اوپنرز اذان اویس (21) اور عبداللہ فضل (6) مجموعی اسکور 41 رنز تک پہنچنے پر مہدی حسن معراج اور ناہید رانا کا شکار ہو کر پویلین لوٹ گئے، جس کے بعد شان اور بابر کریز پر یکجا ہوئے۔
بابر اعظم نے بغیر کسی غلطی کے ایک چھکے اور چار چوکوں کی مدد سے شاندار بیٹنگ کی، جبکہ شان مسعود نے بھی آٹھ چوکوں کی مدد سے کھل کر شاٹس کھیلے۔ بابر لیگ سائیڈ پر ایک لاپرواہ فلک شاٹ کھیلتے ہوئے آؤٹ ہوئے جبکہ شان مسعود شارٹ لیگ پر کیچ تھما بیٹھے۔
سعود شکیل سیریز میں اپنی خراب فارم کا سلسلہ برقرار رکھتے ہوئے محض 6 رنز بنا کر ناہید رانا کی گیند پر آؤٹ ہو گئے، جس کے بعد ناہید رانا کی وکٹوں کی تعداد دو ہو گئی ہے جبکہ تاج الاسلام اب تک چار وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔ واضح رہے کہ بنگلہ دیش کو سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل ہے۔
پاکستان کو یہ ٹیسٹ میچ جیتنا لازمی ہے تاکہ وہ آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا حصہ بننے والی اس سیریز کو برابر کرسکے۔