پاکستان کرکٹ ٹیم کو بنگلا دیش کے ہاتھوں ٹیسٹ سیریز میں 2-0 سے وائٹ واش کا سامنا کرنے کے بعد قومی ٹیسٹ کپتان شان مسعود شدید تنقید کی زد میں آ گئے ہیں جبکہ ان کی کپتانی کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
دوسری جانب محسن نقوی بطور وفاقی وزیر داخلہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور ایران امریکا تنازع سے متعلق سفارتی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ ذرائع کے مطابق وہ ایرانی حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں اور تہران کا دورہ بھی کر چکے ہیں، جس کے باعث پاکستان کرکٹ بورڈ کے معاملات پر مکمل توجہ دینا ان کے لیے مشکل ہو گیا ہے۔
پاکستانی میڈیا اور سوشل میڈیا پر شان مسعود کی قیادت پر سخت تنقید جاری ہے جبکہ بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سلہٹ ٹیسٹ میں شکست کے بعد کپتان اور دیگر کھلاڑیوں کے درمیان ماحول کشیدہ رہا۔
سابق ٹیسٹ کرکٹر فیصل اقبال نے بھی سوشل میڈیا پر ان افواہوں کی حمایت کی ہے جن میں کہا جا رہا ہے کہ سلمان علی آغا کو تینوں فارمیٹس کا کپتان بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
تاہم باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی تک کپتانی سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق آسٹریلیا سیریز کے بعد اور ویسٹ انڈیز کے دورۂ ٹیسٹ سے قبل پی سی بی کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس متوقع ہے جس میں شان مسعود کے مستقبل اور ٹیم کی قیادت پر غور کیا جائے گا۔
ادھر پی سی بی نے آسٹریلیا کے خلاف ہوم ون ڈے سیریز کے لیے اسکواڈ کا اعلان کرتے ہوئے شاہین شاہ آفریدی کو ون ڈے کپتان برقرار رکھا ہے تاہم مبصرین کے مطابق اگلے سال ہونے والے 50 اوورز کے ورلڈ کپ کے تناظر میں قیادت کے حوالے سے مزید تبدیلیاں سامنے آ سکتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق شان مسعود خود کپتانی جاری رکھنے کے خواہشمند ہیں، تاہم وہ ٹیسٹ اسکواڈ کے انتخاب، کوچنگ اسٹاف اور ٹیم مینجمنٹ کے نظام میں ڈھانچہ جاتی تبدیلیاں چاہتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ کوچنگ اور مینجمنٹ میں مسلسل تبدیلیوں نے ایک مضبوط ٹیسٹ ٹیم بنانے کی کوششوں کو متاثر کیا ہے۔
شان مسعود کے ناقدین اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ ان کی قیادت میں پاکستان اب تک 16 میں سے 12 ٹیسٹ میچ ہار چکا ہے جبکہ وہ بطور بیٹر بھی مستقل کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے ہیں۔