پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے کھلاڑیوں کو غیر ملکی ٹی ٹوئنٹی لیگز میں شرکت کے لیے ایک مستقل اور مربوط پالیسی بنانے میں ناکامی کا معاملہ ایک بار پھر نمایاں ہوگیا ہے، کیونکہ جولائی اور اگست میں شیڈول لنکا پریمیئر لیگ (LPL) کے لیے ریکارڈ 102 پاکستانی کھلاڑیوں نے اپنی رجسٹریشن کرائی ہے۔
عالمی سطح پر ٹی ٹوئنٹی لیگز کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث، عام طور پر پاکستانی کھلاڑی ان ایونٹس کے لیے سب سے بڑی تعداد میں رجسٹریشن کرواتے ہیں۔ قواعد و ضوابط کے تحت صرف وہی کھلاڑی بعد میں شارٹ لسٹ ہو کر کسی لیگ کے ڈرافٹ یا نیلامی (آکشن) کا حصہ بنتے ہیں جو خود کو پہلے رجسٹر کرواتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، چونکہ پی سی بی نے غیر ملکی ٹی ٹوئنٹی لیگز کے حوالے سے کسی یکساں اور منظم پالیسی پر مستقل مزاجی کے ساتھ عمل درآمد نہیں کیا ہے، اس لیے کھلاڑیوں کے ایجنٹس بورڈ کی پیشگی کلیئرنس یا این او سی (NOC) کی صورتحال واضح کیے بغیر ہی کھلاڑیوں کے نام رجسٹر کرا دیتے ہیں۔
واضح رہے کہ زیادہ تر معاملات میں بہت کم پاکستانی کھلاڑیوں کو ہی ڈرافٹ یا نیلامی کے لیے شارٹ لسٹ کیا جاتا ہے، جبکہ کھلاڑیوں کی ایک بڑی تعداد یا تو بورڈ کی پالیسیوں کے تنازعات کی زد میں آ جاتی ہے یا انہیں این او سی کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔