بار بار تبدیلیوں نے پاکستان کرکٹ کو نقصان پہنچایا، ہارون رشید

image

پاکستان کے سابق ٹیسٹ بلے باز، قومی ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر ہارون رشید کا ماننا ہے کہ بھارتی کرکٹ نے اپنی گراس روٹ اور ڈومیسٹک کرکٹ میں بھاری سرمایہ کاری اور منصوبہ بندی کی بدولت پاکستان کرکٹ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

ہماری ویب کے ایک شو میں گفتگو کرتے ہوئے ہارون رشید نے کہا کہ بھارتی سلیکٹرز کو جلد ہی مختلف فارمیٹس، بالخصوص ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں اپنی بہترین پلیئنگ الیون منتخب کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ ان کے پاس ٹیلنٹ کی بھرمار ہے۔

انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس کے برعکس، کلب یا ڈومیسٹک کرکٹ پر بہت کم توجہ دینے اور بین الاقوامی کرکٹ کے لیے کھلاڑیوں کو تیار کرنے اور ان کی گرومنگ کے لیے ایک مناسب پائپ لائن سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کرکٹ کا ڈھانچہ زوال کا شکار ہوا ہے۔

انہوں نے کہا بنگلا دیش کے ہاتھوں حالیہ ٹیسٹ شکست اور اس سے قبل وائٹ بال کرکٹ میں ہماری کارکردگی، ہماری کرکٹ کی اصل کہانی خود بیان کر رہی ہے۔

ہارون رشید جنہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) میں چیف سلیکٹر، سینئر اور جونیئر قومی ٹیموں کے کوچ اور کرکٹ اکیڈمی کے سربراہ سمیت مختلف عہدوں پر خدمات انجام دیں کا کہنا تھا کہ بھارت اس وقت اپنی سرمایہ کاری اور تسلسل کے فوائد سمیٹ رہا ہے۔

اس وقت بھارت کے پاس خاص طور پر ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں منتخب کرنے کے لیے اتنا زیادہ ٹیلنٹ موجود ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے تمام کھلاڑی مختلف ایج گروپس سے ایک مناسب نظام کے ذریعے اوپر آ رہے ہیں۔

ہارون رشید نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کو متاثر کرنے والے بڑے مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ بڑے فیصلوں میں تسلسل، منصوبہ بندی اور تسلسل کا نہ ہونا ہے، چاہے وہ ڈومیسٹک کرکٹ کا ڈھانچہ ہو، سلیکشن ہو، جونیئر کرکٹ ہو، کوچز ہوں یا پھر کپتانی۔

انہوں نے کہا میں نہیں سمجھتا کہ اتنی جلدی جلدی بورڈ کے چیئرمینوں کی تبدیلی سے کوئی فائدہ ہوا ہے۔ میں نے بورڈ میں اپنے وقت کے دوران کم از کم 6 مختلف چیئرمینوں کے ماتحت کام کیا اور جب بھی کوئی نیا چیئرمین آتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے لوگ، اپنی پالیسیاں اور اپنی سوچ ساتھ لاتا ہے۔

انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ زیادہ تر چیئرمین کرکٹ کا وسیع پس منظر نہیں رکھتے تھے اس لیے وہ دوسروں کے مشوروں پر بہت زیادہ انحصار کرتے تھے۔

پاکستان میں ڈومیسٹک ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی شدید ضرورت ہے جو کہ اب تک ایسوسی ایشن اور ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کے درمیان مقابلے پر چل رہا ہے۔ ہمیں ایک نیا تصور سامنے لانا ہوگا ورنہ ہم پیچھے رہ جائیں گے۔ اب تو بنگلا دیش نے بھی دکھا دیا ہے کہ انہوں نے کتنی بہتری دکھائی ہے۔

سابق ٹیسٹ بلے باز نے یہ بھی نوٹ کیا کہ بورڈ نے کبھی بھی اپنے کپتانوں پر طویل مدتی اعتماد کا اظہار نہیں کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب آپ کسی بھی فارمیٹ میں کپتان مقرر کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو یہ بہت سوچ سمجھ کر کیا جانا چاہیے، پھر آپ کپتانوں کو مسلسل کیسے بدل سکتے ہیں؟ اس طرح پاکستان ٹیم میں تسلسل اور استحکام کیسے آئے گا

انہوں نے کہا کہ جب بھی پاکستان کے پاس طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے کپتان رہے، نتائج بہتر آئے۔پاکستان کرکٹ میں بہت سی چیزوں کو درست کرنے کی ضرورت ہے ورنہ ہم مزید پیچھے رہ جائیں گے۔ کیونکہ ہم اپنے نوجوان ٹیلنٹ کی نہ تو ٹھیک طرح سے گرومنگ کر رہے ہیں اور نہ ہی انہیں طویل مدتی بین الاقوامی کرکٹ کے لیے تیار کرنے کے لیے مناسب کوچنگ اور تجربہ دے رہے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US