پاکستان میں جعلی کرنسی کا مسئلہ وقتاً فوقتاً سامنے آتا رہتا ہے، جس سے نہ صرف ملکی معیشت متاثر ہوتی ہے بلکہ عام شہری بھی مالی نقصان کا شکار ہوسکتے ہیں۔ خاص طور پر 5 ہزار روپے کا نوٹ، جو اس وقت ملک میں سب سے بڑی مالیت کا کرنسی نوٹ ہے، جعل سازوں کی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔
عوام کو جعلی نوٹوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک آگاہی ویڈیو جاری کی ہے جس میں 5 ہزار روپے کے اصل نوٹ کی مختلف سیکیورٹی خصوصیات کی وضاحت کی گئی ہے۔ بینک کا کہنا ہے کہ یہ نوٹ قانونی طور پر ملک بھر میں زیرِ گردش ہے اور اس کی درست شناخت مالی لین دین میں انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق 5 ہزار روپے کے نوٹ میں جدید حفاظتی فیچرز شامل کیے گئے ہیں جو جعل سازی کو مشکل بناتے ہیں۔ نوٹ خصوصی کاغذ پر چھاپا جاتا ہے جس کی سطح عام کاغذ سے مختلف محسوس ہوتی ہے۔
نوٹ میں قائداعظم کی تصویر والا واٹر مارک موجود ہے جبکہ اس کے نیچے مالیت کا الیکٹرو ٹائپ واٹر مارک بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اسی طرح حفاظتی دھاگا روشنی میں دیکھنے پر ایک عمودی چمکدار پٹی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے جس پر 5000 کا ہندسہ درج ہوتا ہے۔
نوٹ کے اوپری حصے میں مالیت کا ہندسہ مختلف حصوں میں چھپا ہوتا ہے جو روشنی کے سامنے مکمل شکل میں نظر آتا ہے۔ دائیں جانب موجود پاکستانی پرچم خاص سیاہی سے پرنٹ کیا گیا ہے جو مختلف زاویوں سے دیکھنے پر رنگ تبدیل کرتا محسوس ہوتا ہے۔
بینائی سے محروم افراد کی سہولت کے لیے نوٹ کے بائیں حصے میں تین ابھرے ہوئے دائرے بھی شامل کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ قائداعظم کی تصویر کے قریب 5000 کا ایک پوشیدہ ہندسہ موجود ہے جو مخصوص زاویے سے دیکھنے پر نمایاں ہوتا ہے۔
اسٹیٹ بینک نے مزید بتایا کہ نوٹ پر بعض حصوں میں ابھری ہوئی چھپائی کی گئی ہے، جن میں قائداعظم کی شیروانی، 5000 کا ہندسہ اور کناروں پر موجود لکیریں شامل ہیں۔ ان خصوصیات کو چھو کر بھی محسوس کیا جا سکتا ہے۔
الٹرا وائلٹ روشنی میں نوٹ کا معائنہ کرنے پر حفاظتی دھاگے میں نیلے اور پیلے رنگ کی روشن پٹیاں نظر آتی ہیں جبکہ نوٹ کے مختلف حصوں میں باریک چمکدار سبز لکیریں بھی نمایاں ہو جاتی ہیں۔
اسٹیٹ بینک نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ ان حفاظتی نشانیوں سے واقفیت حاصل کریں تاکہ جعلی کرنسی کی شناخت آسان ہو اور مالی لین دین کو محفوظ بنایا جاسکے۔