پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں رواں ہفتے شاندار ریکوری دیکھنے میں آئی، جہاں تین اہم مثبت پیش رفتوں کے باعث مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا اور 100 انڈیکس میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی توقعات، اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ اور کارپوریٹ رزلٹ سیزن کے آغاز نے مارکیٹ کی تیزی میں اہم کردار ادا کیا۔
رپورٹ کے مطابق ہفتے کے دوران ایک ہی کاروباری سیشن میں 7 ہزار 500 پوائنٹس کی غیر معمولی تیزی ریکارڈ کی گئی، جبکہ 100 انڈیکس پانچ کاروباری دنوں میں 5 ہزار 73 پوائنٹس اضافے کے ساتھ تقریباً 3 فیصد بڑھ گیا۔
ہفتے کے اختتام پر100 انڈیکس ایک لاکھ 76 ہزار 94 پوائنٹس پر بند ہوا جبکہ ہفتے کے دوران انڈیکس کی بلند ترین سطح ایک لاکھ 79 ہزار 123 پوائنٹس اور کم ترین سطح ایک لاکھ 74 ہزار 612 پوائنٹس ریکارڈ کی گئی۔
ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق اس شاندار تیزی کے باعث سرمایہ کاروں کو مجموعی طور پر 477 ارب 32 کروڑ روپے کا منافع ہوا جبکہ مارکیٹ کیپٹلائزیشن بھی 477 ارب روپے اضافے کے بعد 19 ہزار 756 ارب روپے تک پہنچ گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مارکیٹ میں سرگرمی بھی نمایاں طور پر بہتر رہی۔ اوسط یومیہ تجارتی حجم 19.4 فیصد اضافے کے ساتھ 83 کروڑ 13 لاکھ شیئرز رہا، جبکہ اوسط یومیہ تجارتی مالیت 14.2 فیصد بڑھ کر 11 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی۔
رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے اسٹاک مارکیٹ نے دورانِ تجارت پانچ اہم نفسیاتی حدیں بھی دوبارہ بحال کر لیں، جسے سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور مارکیٹ کے مثبت رجحان کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔