سابق نگراں وفاقی وزیر اور چیئرمین اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ گوہر اعجاز نے آئندہ مالی سال کے لیے شیڈو بجٹ پیش کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا ہے کہ معیشت کی بحالی کے لیے ٹیکسوں میں نمایاں کمی، سرکاری اخراجات میں کٹوتی اور جامع مالیاتی اصلاحات متعارف کرائی جائیں۔
شیڈو بجٹ پیش کرتے ہوئے گوہر اعجاز نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال بجٹ کی منظوری محض ایک رسمی کارروائی بن کر رہ گئی ہے، جبکہ بجٹ کی تیاری محدود سطح کی مشاورت سے کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کو بجٹ کا جائزہ لینے کے لیے انتہائی کم وقت دیا جاتا ہے اور کاروباری برادری کو بجٹ کی منظوری کے بعد اس کی تفصیلات سے آگاہ کیا جاتا ہے، حالانکہ ملکی معیشت کا انحصار اسی شعبے پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں سرمایہ کاری کا عمل تقریباً رک چکا ہے اور گزشتہ تین برس کے دوران اوسط معاشی شرح نمو صرف دو فیصد رہی، جو معاشی استحکام کے بجائے تنزلی کی نشاندہی کرتی ہے۔
گوہر اعجاز کے مطابق گزشتہ دس برسوں میں قومی قرضہ 19 ٹریلین روپے سے بڑھ کر 80 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ حکومتی اخراجات کا تقریباً 60 فیصد حصہ سود کی ادائیگیوں پر صرف ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ ٹیکس نظام ٹیکس دہندگان کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے جبکہ غیر دستاویزی معیشت اب بھی ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ زیادہ سے زیادہ انکم ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد، کارپوریٹ ٹیکس 29 فیصد سے کم کرکے 25 فیصد اور سیلز ٹیکس آئندہ تین برسوں میں 18 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد کیا جائے۔ گوہر اعجاز نے نان فائلرز کی کیٹیگری ختم کرنے اور رسمی معیشت کو مزید ٹیکسوں کے بجائے ریلیف فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔